داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی تفصیلات فراہم کرنے والے مخبر کی دنیا ہی بدل گئی۔۔۔ کتنی انعامی رقم دینے کا فیصلہ کر لیا گیا؟ امریکی اخبار نے تصدیق کر دی

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں امریکی فوج کی کارروائی میں مارے گئے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی تفصیلات فراہم کرنے والے پیغام رساں کو متوقع طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیغام رساں داعش کا

اہم رکن تھا جس نے بغدادی کو شام کے اطراف میں آنے جانے اور چھپے رہنے کے لیے ٹھکانے کی تعمیر میں ان کی مدد کی۔رپورٹ کے مطابق پیغام رساں جب کارروائی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تو جائے وقوع پر ہی موجود تھا اور دو روز بعد انہیں اہل خانہ سے الگ کردیا گیا۔پیغام رساں کی شناخت ظاہر کیے بغیر انعام کے حوالے سے اخبار کا کہنا ہے کہ تفصیلات فراہم کرنے والے کو انعام کے طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دیا جائے گا جو امریکا نے البغدادی کے سرکی قیمت مقرر کی تھی۔خبرایجنسی اے ایف پی کی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیغام رساں بغدادی کی نقل و حرکت کے علاوہ شام میں ان کی آخری پناہ گاہ کے ایک،ایک کمرے سے بھی واقف تھا۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیغام رساں ایک عرب ہے جو ایک رشتہ دار کو داعش کی جانب سے قتل کیے جانے کے بعد ان کے مخالف بن گئے تھے اور ان تک رسائی کرد انٹیلی جنس کے ذریعے کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کردوں نے ان کو امریکیوں کے حوالے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے یقین دلانے کے کئی ہفتے گزارے اور گزشتہ ماہ ہی کارروائی کے لیے موقع ترتیب دیا گیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 27 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ ان کی فوج نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں ایک کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔واشنگٹن میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘فوج نے ایک کمپاؤنڈ میں تقریباً 2 گھنٹے تک کارروائی کی اور مشن کی تکمیل کے بعد انتہائی حساس مواد اور معلومات جمع کی گئیں جو داعش کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق تھیں’۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘بغدادی کی ہلاکت امریکا کی دہشت گرد رہنماؤں کے خلاف امریکا کا عزم ہے اور ہمارا مقصد داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ ماہ ہم نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کو مارا جو لوگوں، ہمارے ملک اور دنیا کے بارے میں برے ارادے رکھتے تھے لیکن اب ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کردیا ہے’۔کارروائی میں تعاون کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘یہ کارروائی صرف دوسرے ممالک اور لوگوں کی مدد سے ممکن ہوسکی جس کا اعتراف ضروری ہے’۔امریکی صدر کا کہنا تھاکہ ‘میں روس، ترکی، شام اور عراق جیسی اقوام اور شام کے مخصوص حلقے کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک خطرناک کارروائی تھی’۔

(Visited 72 times, 1 visits today)