بھارت پھر باز نہ آیا ۔۔۔۔ آبی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب ،لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق

" >

ہٹیاں بالا(ویب ڈیسک) بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر آنے والے دریا ئے جہلم کا پانی روکنا شروع کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں خشک سالی کے ساتھ ساتھ بھارت کی آبی جارحیت بھی جاری ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے لائن آف کنٹرول چکوٹھی اوڑی کے راستے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والے

دریائے جہلم کا پانی روکنا شروع کر دیا ہے، جس کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب اکتوبر کے اوآخر میں ہی دریائے جہلم میں پانی کی سطح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔بارشیں نہ ہونے کے باعث ماضی میں پانی کی کم سطح دسمبر اور جنوری میں دکھائی دیتی تھی لیکن اس بار گزشتہ سالوں کی نسبت اکتوبر کے آخر میں ہی پانی تاریخ کی کم ترین سطح پر دکھائی دے رہا ہے، بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریا جہلم کے کنارے آزاد کشمیر میں بسنے والے انسانوں کے ساتھ ساتھ آبی حیات کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جانب سے دریائے جہلم کا پانی روکنے اور سندھ طاس معائدے کی خلاف ورزی پر فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل آبی جارحیت اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور دریاؤں کی تقسیم کے حوالے سے ہونے والے سندھ طاس معاہدے کو بھارت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1948 میں ہی اس وقت شروع ہوگیا تھا جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا تھا ۔ دونوں ملک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہد ہ طے پایا ۔ اس معاہدے کے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طورپر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ ،جہلم اور چناب سے سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی،بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا ۔ چوں کہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لئے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں میں یعنی سندھ ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جبکہ مزید 45 سے 61 ڈیمز بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ بھارت کشمیر سے آنیوالے پانی پر 62 ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو صومالیہ، ایتھوپیا اور ریگستان بنانا چاہتا ہے ۔

(Visited 6 times, 1 visits today)