یااللہ خیر : کوئٹہ سے کراچی جانیوالی ٹرین کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی کوشش ۔۔۔۔تشویشناک اطلاعات موصول

" >

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بولان میں تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے بارودی مواد ناکارہ بنا دیا ہے۔سروے بولان

میں ریلوے ٹریک پر دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ 8کلو دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔نصب بم کے ساتھ 7 راکٹ بھی منسلک تھے جو بم کے پٹھنے سے فائر ہونے تھے۔جب کہ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا اگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اگست 2018 سے جون 2019 کے درمیان ٹرین حادثات کی تفصیل پیش کر دی گئی جس کے مطابق 11 ماہ میں 74 ٹرین حادثات پیش آئے۔ وزارت ریلوے کے مطابق 20 مال بردار ریل گاڑیاں پٹڑی سے اتریں، بغیر عملے تعیناتی والے ریلوے پھاٹک پر 20 حادثات پیش آئے۔ وزارت ریلوے کے مطابق 19 مسافر بردار ریل گاڑیاں پٹڑی سے اتریں، ریل گاڑیوں میں آگ لگنے کے تین واقعات پیش آئے۔ ٹرینوں کے مسلسل حادثات نے ٹرینوں کے مسافروں کی زندگیوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔ ٹرینوں نے یومیہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد پریشانی اورخوف میں مبتلا ہیں ،جبکہ ٹرینوں کی تاخیر بھی شدید گرمی میں اذیت کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ ممتاز سیاست دان شیخ رشید نے جب سے وزارت ریلوے کا قلم دان سنبھالا ہے تو ریلوے حادثات اور اُن کے باعث ہونے والے مالی اور جانی نقصان میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر وفاقی وزیر کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ رشید کے موجودہ دورِ وزارت میں ریلوے کو 79کے قریب چھوٹے بڑے حادثات پیش آئے ہیں۔ تاہم ٹرین حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے اہم وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریلوے کے پاس تین ہزار ڈرائیورز کی ٹریننگ کے لیے صرف ایک ہی سیمولیٹر موجود ہے۔ سیمولیٹر سے مراد انجن ڈرائیونگ کی ٹریننگ کے لیے جدید آلات سے لیس مخصوص کمرہ ہے۔ جہاں پر زیر تربیت ڈرائیورز کو بالکل ایسا ہی ماحول دیا جاتا ہے جیسے وہ کسی مال گاڑی یا مسافر بردار ٹرین کو چلا رہے ہوں۔آرٹیفیشل ٹریننگ روم میں عملے کو جدید کمپیوٹرز اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرین آپریشن سکھایا جاتا ہے۔ ریل گاڑیوں کے ڈرائیورز کی ٹریننگ کے لیے یہ سیمولیٹر یعنی آرٹیفیشل ٹریننگ رُوم لاہور کے علاقہ والٹن میں موجود ہے۔ تین ہزار ڈرائیورز کی ٹریننگ کے لیے صرف ایک سیمو لیٹر کی موجودگی کے باعث تمام ڈرائیورز کو ٹریننگ کے لیے بین الاقوامی طور پر مقرر کردہ وقت نہیں مِل پاتا۔یوں مخصوص وقت کی ٹریننگ مکمل کیے بغیر ہی اُنہیں ٹرینوں کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجود وزیر ریلوے شیخ رشید نے ڈرائیورز کی تربیت کو بہتر بنانے کی خاطر مزید سیمولیٹر خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ جس کے باعث آدھی ادھوری ٹریننگ والے ڈرائیورز حادثات کے رُونما ہونے کا باعث بن رہے ہیں۔

(Visited 106 times, 1 visits today)