یہ طریقہ اختیار کریں تو ہم تین دن میں افغانستان فتح کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ امریکی صدر نے تشویشناک اشارہ دے دیا

" >

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو

کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احتجاج کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے روس کے ساتھ Intermediate-Range Nuclear Forces معاہدے سے دستبرداری کے حوالے سے کہا کہ ایٹمی میزائلوں کے تخفیف کے نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہیے یہ دنیا کے لیے زبردست چیز ہو گی۔ روس اور امریکا معاہدے کے تحت درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ختم کرنے کے پابند تھے۔معاہدے سے دستبرادی کے بعد امریکی وزیر دفاع نے نئے کروز اور بیلسٹک میزائل سسٹم کی تیاری تیز کرنے کا اعلان کردیا۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکہ طالبان کے ساتھ ابتدائی امن معاہدے کے تحت جلد افغانستان سے ہزاروں فوجیوں کو نکال لے گا۔نائن الیون حملوں کے بعد اسامہ بن لادن اور ان کے طالبان میزبانوں کو سبق سکھانے کے لیے امریکی قیادت میں اس کے اتحادیوں کی افغانستان پر فوج کشی کے 18 برس بعد بلآخر صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے کے مطابق جنگ زدہ ملک سے باقی ماندہ فوجیوں کے انخلا پر بظاہر عمل درآمد شروع کر دیا ہےواشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان سے امن معاہدے کی روشنی میں ابتدائی طور پر افغانستان میں موجود 14 ہزار فوجیوں میں سے سات یا آٹھ ہزار فوجیوں کو فوری طور پر واپس امریکہ بلانے کی تجویز پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔اخبار کے مطابق اس منصوبے کے تحت طالبان کو دیر پا امن معاہدے کے لیے افغان حکومت سے براہ راست مذکرات کرنا ہوں گے جس سے وہ اب تک انکار کرتے رہے ہیں۔رواں ہفتے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ 2020 کے انتخابات سے پہلے افغانستان سے لڑاکا دستوں کی واپسی چاہتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دی اکنامک کلب آف واشنگٹن ڈی سی سے خطاب کرتے ہوئے پومپیو کا کہنا تھا کہ ’یہ امریکی صدر کی جانب سے مجھے دی گئی ہدایت ہے۔ وہ اپنے مقصد میں واضح ہیں، وہ لامتناہی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، فوجیوں کی تعداد کم ہونی چاہیے۔ یہ صرف ہمارے لیے نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خطے میں موجود مجموعی لڑاکا فوجیوں میں کمی کی جائے گی۔

(Visited 40 times, 1 visits today)