امریکہ میں 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات: ٹرمپ کے مد مقابل کون کون ہو گا ؟ تازہ ترین خبر

" >

واشنگٹن(ویب ڈیسک) اسوقت یہ بات تقریباً طے ہے نومبر 2020ء میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کا ٹکٹ روایات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی ملے گا۔ ادھر ڈیموکریٹک پارٹی میں صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ اس مرتبہ گزشتہ انتخابات کی طرح ہیلری کلنٹن جیسی کوئی مضبوط شخصیت میدان میں نہیں آئی، البتہ سابق نائب صدر

نامور صحافی اظہر زمان اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ جوبائیڈن نے جب انتخابات میں حصہ لینے کا اعلا ن کیا تو وہ ایک غیر کرشماتی شخصیت ہونے کے باوجود مبصرین کے مطابق ڈیموکریٹک ٹکٹ کے بہتر امیدوار نظر آ رہے تھے۔ اگرچہ ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ تو چند ماہ تک ہونیوالے پارٹی کنونشنوں میں ہو گا جہاں ملک بھر سے پرائمری انتخابات کے ذریعے منتخب ہو کر آنیوالے مندوبین اکثریتی رائے سے چناؤ کرینگے تاہم گزشتہ دو دنوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کا جو مباحثہ ہوا ہے اس میں دو خواتین سینیٹرز کا ملا ہیرس اور الزبتھ وارن کے علاوہ بزرگ سیاستدان اور انقلابی سوچ کے حامل برنی سنیڈرز نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں جو سابق نائب صدر جوبائیڈن کے ٹکٹ کے حصول میں دشواریاں پیدا کریں گے۔ ان دو روزہ مباحثوں کا اہتمام معروف نشریاتی ادارے ”سی این این“ نے ریاست مشی گن کے شہر ڈیڑائٹ میں کیا تھا۔ پارٹی کے ٹکٹ کے کل 25 امیدوار تھے جن میں سے 20 کو اہل قرار دیا گیا۔ دس دس امیدواروں کو اہم موضوعات پر سوالات کے جوابات دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ منگل کے روز دس امیدواروں نے حصہ لیا جہاں زیادہ تر امیدواروں کی تنقید کا موضوع جوبائیڈن تھے جو ان کے خیال میں ٹکٹ کے حصول کیلئے زیادہ پرامیڈہیں،کیلیفورنیا کی سینیٹر کاملاہیرس نے جوبائیڈن پر تابڑ توڑ حملے کئے اور ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ٹکٹ کے امیدواروں نے صحت عامہ، امیگریشن اور نظام انصاف میں مجوزہ اصلاحات پر سوالات کے جوابات دیئے۔ جوبائیڈن نے سینیٹر ہیرس کے مجوزہ ہیلتھ کیئر منصوبے پر

تنقید کرتے ہوئے کہا یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں خزانے پر تیس کھرب ڈالر کا اضافی بوجھ اور متوسط طبقے کو مزید ٹیکس دینا پڑیگا۔ سینیٹر ہیرس نے جواب میں کہا اگر حکومت نے مناسب ہیلتھ کیئر فراہم نہ کی تو اس صورت میں اس سے بھی زیادہ نقصان ہو گا۔ یاد رہے امریکہ کا ہیلتھ کیئر نظام امریکیوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسلئے یہ بحث کا اہم موضوع بنتا ہے۔ جوبائیڈن نے اوباما دور کے ہیلتھ کیئر نظام کو دوبارہ نافذ کرنے کی حمایت کی۔ اس مباحثے میں قدرتی طور پر دو مضبوط امیدواروں آزاد خیال برنی سنیڈرس اور سینیٹر الزبتھ وارن کی مقبولیت کم کرنے کیلئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ڈیموکریٹک امیدواروں کے مابین دو مزید مباحثے ستمبر اور اکتوبر میں ہونگے لیکن ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے مباحثے میں شرکت کا معیار سخت کر کے امیدواروں میں کمی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ان مباحثوں کے بعد فروری 2020 ء میں پرائمری اور کاکس ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو گا جس کے اختتام پر قومی کنونشن میں حتمی امیدوار کا اعلان کیا جائیگا۔ تازہ جائزوں کے مطابق سینیٹر کاملہ ہیرس، سینیٹر الزبتھ وارن، سینیٹر برنی سنیڈرز اور سابق نائب صدر جوبائیڈن سب سے زیادہ مضبوط امیدوار ہیں۔ جوبائیڈن نے جب انتخابات میں حصہ لینے کا اعلا ن کیا تو وہ ایک غیر کرشماتی شخصیت ہونے کے باوجود مبصرین کے مطابق ڈیموکریٹک ٹکٹ کے بہتر امیدوار نظر آ رہے تھے۔ اگرچہ ٹکٹوں کا حتمی فیصلہ تو چند ماہ تک ہونیوالے پارٹی کنونشنوں میں ہو گا

جہاں ملک بھر سے پرائمری انتخابات کے ذریعے منتخب ہو کر آنیوالے مندوبین اکثریتی رائے سے چناؤ کرینگے تاہم گزشتہ دو دنوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کا جو مباحثہ ہوا ہے اس میں دو خواتین سینیٹرز کا ملا ہیرس اور الزبتھ وارن کے علاوہ بزرگ سیاستدان اور انقلابی سوچ کے حامل برنی سنیڈرز نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں جو سابق نائب صدر جوبائیڈن کے ٹکٹ کے حصول میں دشواریاں پیدا کریں گے۔ ان دو روزہ مباحثوں کا اہتمام معروف نشریاتی ادارے ”سی این این“ نے ریاست مشی گن کے شہر ڈیڑائٹ میں کیا تھا۔ پارٹی کے ٹکٹ کے کل 25 امیدوار تھے جن میں سے 20 کو اہل قرار دیا گیا۔ دس دس امیدواروں کو اہم موضوعات پر سوالات کے جوابات دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ منگل کے روز دس امیدواروں نے حصہ لیا جہاں زیادہ تر امیدواروں کی تنقید کا موضوع جوبائیڈن تھے جو ان کے خیال میں ٹکٹ کے حصول کیلئے زیادہ پرامیڈہیں،کیلیفورنیا کی سینیٹر کاملاہیرس نے جوبائیڈن پر تابڑ توڑ حملے کئے اور ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ٹکٹ کے امیدواروں نے صحت عامہ، امیگریشن اور نظام انصاف میں مجوزہ اصلاحات پر سوالات کے جوابات دیئے۔ جوبائیڈن نے سینیٹر ہیرس کے مجوزہ ہیلتھ کیئر منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں خزانے پر تیس کھرب ڈالر کا اضافی بوجھ اور متوسط طبقے کو مزید ٹیکس دینا پڑیگا۔ سینیٹر ہیرس نے جواب میں کہا اگر حکومت نے مناسب ہیلتھ کیئر فراہم نہ کی تو اس صورت میں اس سے بھی زیادہ نقصان ہو گا۔ یاد رہے امریکہ کا ہیلتھ کیئر نظام امریکیوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسلئے یہ بحث کا اہم موضوع بنتا ہے۔ جوبائیڈن نے اوباما دور کے ہیلتھ کیئر نظام کو دوبارہ نافذ کرنے کی حمایت کی۔ اس مباحثے میں قدرتی طور پر دو مضبوط امیدواروں آزاد خیال برنی سنیڈرس اور سینیٹر الزبتھ وارن کی مقبولیت کم کرنے کیلئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ڈیموکریٹک امیدواروں کے مابین دو مزید مباحثے ستمبر اور اکتوبر میں ہونگے لیکن ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے مباحثے میں شرکت کا معیار سخت کر کے امیدواروں میں کمی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ان مباحثوں کے بعد فروری 2020 ء میں پرائمری اور کاکس ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو گا جس کے اختتام پر قومی کنونشن میں حتمی امیدوار کا اعلان کیا جائیگا۔ تازہ جائزوں کے مطابق سینیٹر کاملہ ہیرس، سینیٹر الزبتھ وارن، سینیٹر برنی سنیڈرز اور سابق نائب صدر جوبائیڈن سب سے زیادہ مضبوط امیدوار ہیں۔

(Visited 50 times, 1 visits today)