ایک امپائر کو کرکٹ کے ایک میچ کا کتنا معاوضہ ملتا ہے ؟ ناقابل یقین اعداد وشمار سامنے آگئے

" >

ممبئی (ویب ڈیسک) کرکٹ میں آنے والی دولت سے صرف کھلاڑی ہی فیض یاب نہیں ہو رہے بلکہ امپائرز بھی دل کھول کر اس سے لطف اندوز ہورہے ہیں، یہ معاوضے عام شائقین کو چونکانے کے لیے کافی ہیں۔ ایک بھارتی ویب سائٹ کے حوالے سے ایکسپریس کے مطابق آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائرز

کو 35 سے 45 ہزار ڈالرز سالانہ رقم ملتی ہے۔ ایک ٹیسٹ میں ذمہ داری انجام دینے کے 3000 ڈالرز الگ سے ملتے ہیں، اسی طرح ایک ون ڈے میں ذمہ داری انجام دینے کی فیس 2200 جب کہ ٹی 20 مقابلے میں امپائرنگ کے 1000 ڈالر الگ سے دیے جاتے ہیں۔ اس طرح اگر ایک امپائر سال میں 10 ٹیسٹ اور 10 سے 15 ون ڈے میچز میں ذمہ داری انجام دے تو صرف فیس کی مد میں 46 ہزار ڈالر تک مل جاتے ہیں جب کہ سالانہ فیس اس کے علاوہ ہے۔ یہ میچ آفیشلز بزنس کلاس میں سفر کرتے جب کہ قیام مہنگے ترین ہوٹلز میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کھیلی جانے والی ٹوئنٹی 20 لیگز امپائرز کے بینک بیلنس میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ صرف انڈین پریمیئر لیگ میں امپائرز کو فی میچ 2500 ڈالر فیس ملتی ہے۔ اس میں سفر بزنس کلاس اور قیام لگژری ہوٹلز میں ہوتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اگر کسی نے پروفیشنل کرکٹ نہیں بھی کھیلی تو بھی وہ امپائر بن سکتا ہے، پلیئرز ریٹائرمنٹ کے بعد بطور امپائر دوسرا کیریئر اختیار کرسکتے ہیں، اسی طرح ایک امپائر کے پاس ریٹائر ہونے کے بعد میچ ریفری بننے کا بھی موقع موجود تاہم اس کے لیے کچھ ٹیسٹ پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امپائرز کو باقاعدگی سے میڈیکل ٹیسٹ دینا پڑتے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ میدان میں سخت ذمہ داری انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق ایک ٹیسٹ میں ذمہ داری انجام دینے کے 3000 ڈالرز الگ سے ملتے ہیں۔

(Visited 38 times, 1 visits today)