کہانی میں نیا ٹوئسٹ۔۔۔۔ کون کس کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا؟ محسن عباس اور انکی اہلیہ کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف

" >

لاہور(نیوز ڈیسک) اداکار و گلوکار محسن عباس نے ایک بار پھر اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کر دی۔اس حوالے سے ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے کہ جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ میں ان کو حاملہ ہونے کے دوران مارتا تھا۔جو

واقعہ وہ مجھ سے منسوب کر رہی ہیں یہ واقعہ میں نے پہلے بھی ان کے منہ سے سنا ہوا ہے جو کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں بتایا کرتی تھیں۔محسن عباس نے بتایا کہ فاطمہ مجھے بتاتی تھی کہ ان کے بھائی کو بچہ نہیں چاہئیے تھا،جس وجہ سے وہ بھابھی کے پیٹ پر مکے مارتا تھا اور ان کے پیٹ پر کھڑا ہو جاتا تھا کیونکہ وہ کہیں اور شادی کرنا چاہتا تھا۔اگر فاطمہ یہ بات قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہہ دیں کہ جھوٹ ہے تو میں خود کو قصور وار مان لوں گا۔محسن عباس نے یہ بھی کہا کہ جس دن میرا بیٹا ہوا اس نے میں شوٹنگ پر تھا جس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ہماری علحیدگی ہو چکی تھی لیکن میں پھر بھی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بیٹے کو دیکھنے گیا۔محسن عباس نے کہا کہ فاطمہ نے الزام لگایا کہ میں بیٹے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔تو میں یہ بتا دوں کہ میں نے علحیدگی ہونے کے باوجود بیٹے کے تمام اخراجات اٹھائے۔جب وہ پیدا ہواتو اسپتال کا سارا بل ادا کیا اور بیٹے کے ساتھ فاطمہ کے اخراجات بھی اٹھائے جس کی بینک سٹیٹمنٹ بھی میرے پاس موجود ہے۔واضح رہے اداکار اور گلوکار محسن عباس عرف ڈی جے کی اہلیہ فاطمہ نے اپنے شوہر پر بدترین مبینہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا سنگین ترین الزام عائد کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اپنی تصاویر فیس بک شئیر کی تھیں لیکن گذشتہ روز محسن عباس حیدر نے ان تمام تر الزامات کی تردید کر دی تھی۔

(Visited 41 times, 1 visits today)