پولیس لائن پر 3 خودکش حملہ آوروں کا حملہ۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا ہنگامی بیان سامنے آگیا

" >

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لورالائی پولیس لائن پر خود کش حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ لورالائی پولیس لائن پر 3 خودکش بمباروں نے حملے کی کوشش کی ہے۔2خود کش بمبار پولیس لائن

میں داخل ہوئے۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ایک خود کش بمبار کو پولیس نے گولی نے مار کر ہلاک کیا۔یہ حملہ آور داخلہ دروازے پر مارا گیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل اللہ نواز شہید ہو گیا، جب کہ دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ایف سی اور کوئیک رسپانس فورس فوری جائے وقوع پر پہنچی۔سیکیورٹی فورسز نے لورالائی پولیس لائن کپماؤنڈ ککو کلئیر کر دیا۔ واضح رہے اس سے قبل مارچ میں بلوچستان کے ضلع لورالائی میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران 4 خودکش حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے جب کہ 4 اہلکار بھی زخمیہوئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ت تھا کہ اے ایس پی لورالائی عطا الرحمن کے مطابق لورالائی میں دہشت گردوں کی موجودگی پر سیکورٹی فورسز انٹیلی جنس آپریشن کرتے ہوئے ناصر آباد میں علاقے کو گھیرے میں لے لینے کے بعد ایک مکان پر چھاپہ مارا۔سیکورٹی اہلکاروں نے صبح 5 بجے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔دہشت گردوں نے آپریشن کے دوران سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔سیکورٹی اہلکاروں سے مقابلے کے بعد مکان میں موجود دہشت گرددوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں مکان میں موجود خاتون سمیت چاروں دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ایک اورمیڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آپریشن کے دوران 2خودکش بمبار اور بلوچستان میں ٹی ٹی پی کے ماسٹرمائنڈ سمیت 4دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔آپریشن کے دوران 4سکیورٹی اہلکار بھی معمولی زخمی ہوئے۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا تودہشتگردوں نے فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔دہشتگردوں نے فورسز کی پیش قدمی روکنے کیلئے دتی بموں کا استعمال بھی کیا۔دستی بموں کی آڑ میں دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق چاروں دہشتگرد فورسز کی شدید فائرنگ کے تبالے میں ہلاک ہوئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ آپریشن میں ہلاک دہشتگرد بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کی واردات کے ذمہ دار تھے۔

(Visited 4 times, 1 visits today)