عوام ہوشیار ! جن افراد کی ماہانہ تنخواہ اتنے ہزار ہے وہ بھی اب ٹیکس دیں گے ۔۔ تبدیلی سرکار نے بڑا اعلان کر دیا

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سالانہ چار لاکھ سے زائد تنخواہ وصول کرنے والوں پر ٹیکس عائد کیےجانے کا امکان ہے، 4لاکھ روپے سالانہ آمدنی پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔آئندہ مالی سال بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کی جائے گی ، ایک بارپھر4لاکھ سے

زائدکی رقم قابل ٹیکس آمدن قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، 4 سے 5 لاکھ پر ایک فیصد، 5 سے 6 لاکھ آمدن پر 2 فیصد، 6سے 7لاکھ پر 3 فیصد،7 سے 8 لاکھ پر 4 فیصدانکم ٹیکس لاگوہوگا۔بجٹ میں 8 سے 10لاکھ پر5 فیصد اور 10 سے 12 لاکھ پر 6.25 فیصدٹیکس کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 15 سے 18 لاکھ پر 8.75 فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوگا۔ذرائع کے مطابق 4 سے5 لاکھ آمدن پر 83 روپے ، 5سے6 لاکھ آمدن پر250روپے، 6 سے7 لاکھ آمدن پر500 روپے، 7سے8لاکھ پر833روپے ماہانہ ٹیکس دیناہوگا۔ذرائع کا کہنا تھا 8 سے 10لاکھ آمدنی پر1667روپے، 10 سے 12 لاکھ پر آمدنی پر2708 روپے اور 15 سے18 لاکھ آمدنی پر6771روپےماہانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔خیال رہے پی ٹی آئی حکومت سڑسٹھ کھرب روپےسےزائد کااپنا بجٹ آج پیش کرے گی، ترقیاتی بجٹ کا حجم 18 سو ارب روپے سے زائد متوقع ہے، جب کہ اس سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن میں دس سے پندرہ فیصداضافے اور ٹیکس آمدن میں چودہ سوپچاس ارب روپےکا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سالانہ چار لاکھ سے زائد تنخواہ وصول کرنے والوں پر ٹیکس عائد کیےجانے کا امکان ہے، 4لاکھ روپے سالانہ آمدنی پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔آئندہ مالی سال بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کی جائے گی، ایک بارپھر4لاکھ سےزائدکی رقم قابل ٹیکس آمدن قرار دیے جانے کا امکان ہے

(Visited 4 times, 1 visits today)