حضرت علی ابن ابی طالب ؓنے ولادت کے بعد تین دن اس وقت تک آنکھ نہ کھولی جب تک حضورؐ نےانہیں اپنی آغوش میں نہ لے لیا۔۔۔ حضرت علیؓ کی پہلی خوراک کیا دی گئی ؟ پڑھیے حضرت علیؓ اور حضور اکرم ﷺ سے محبت کی وہ شاندار داستان جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

" >

صفحہ ارضی پر اللہ کا پہلاگھر جسے پوری انسانیت کا مسجود ٹھہرایا گیا وہ برکت والا اور دنیا بھر کیلئے رہنما ہے اس میں بہت سی نشانیاں ہیںجو اس میں چلا جاتا ہے وہ امن پاجاتا ہے۔اس مقدس ترین مقام پر 13رجب المرجب 30عام الفیل کوایک ایسی ہستی کاظہور ہواجس نے

کائنات کی افضل ترین ہستی محمد مصطفیؐ کے شانوں پر سوار ہو کر انسانیت کے مرکزخانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا۔کتب تاریخ گواہ ہیں کہ نجیب الطرفین ہاشمی مولود حرم حضرت علی ابن ابی طالب ؓنے ولادت کے بعد تین دن تک اس وقت تک آنکھ نہ کھولی جب تک آنحضورؐ نے اپنی آغوش میں نہ لے لیا ۔حضرت علیؓ کی پہلی خوراک نبی کریم ؐکا لعاب دہن بنا۔جس کی تاثیر یہ تھی کہ علیؓ منبرسے بلند آواز کہتے تھے : ’’سلونی سلونی قبل اس سے کہ میں دنیا سے چلاجاؤں ، مجھ سے سوال کرو پھر تم مجھے نہیں پا سکو گے۔عالم اہلسنت علامہ ابن صباغ مالکی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ سے پہلے خانہ کعبہ میں کسی کی بھی ولادت نہیں ہوئی یہ وہ فضیلت ہے جو خدا نے ان کیلئے مخصوص فرمائی تاکہ لوگوں پر آپ کی جلالت ، عظمت اور مرتبت کو ظاہر کرے ۔آپ کا نام حضرت ابو طالب نے اسد رکھا والدہ حضرت فاطمہ بنت اسدنے حیدر اور سرور کائناتؐ نے آپ کا نام علیؓرکھا۔حضرت علیؓ کی تربیت نبی کریم ؐ نے فرمائی ۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ’’رسول خداؐ مجھے سینے سے چپٹائے رکھتے تھے ،اپنے پہلو میں سلاتے تھے مجھے اپنی خو شبو سنگھاتے تھے ،پہلے خود کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے ۔میں نبی کریم ؐ کے پیچھے ایسے چلتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ‘‘(نہج البلاغہ)نزول وحی کے بعد علی ابن ابی طالبؓ

نے نبی کریم ؐ کی تصدیق کی اور ہر میدان ہر آن نبیؐ کا ساتھ دیا۔جب نبی کریم ؐ کوسورہ شعراء میں اپنے رشتہ داروںکو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آنحضور ؐ نے اولاد عبد المطلب کے چالیس افراد کو حضرت ابو طالب کے گھر بلوایاجب دستر خوان پر کھانا لایا گیا جو لوگوں کے حساب سے بہت ہی مختصر سا تھا مگر رسول کریم ؐ کے ہاتھوں کی برکت سے کھانا تمام لوگوں کے کھانے کے باوجود بھی بچا رہا ۔جب سب کھانے سے فارغ ہوئے تب رسول خداؐنے اپنی رسالت کا اعلان کیا اور کہا کہ جو کوئی رسالت کے کاموں میں میری مدد و نصرت کرے گا وہ میرا ناصر و مددگار ہوگا میں اس کو اپنے بعد اپنا جانشین و وزیر بناو ںگا،یہ سن کر کسی نے جواب نہ دیا تو کم سن حضرت علیؓ کھڑے ہوگئے اور فرمایا یا رسول اللہ مجھے آپ کی دعوت قبول ہے اور میں آپ کی تائیدو نصرت کیلئے تیار ہوں ۔آنحضور ؐ نے فرمایا علی تم بیٹھ جاؤ حضور ؐنے اپنی دعوت تین مرتبہ دہرائی ہر دفعہ حضرت علی کرم اللہ کے سوا کوئی کھڑا نہ ہوا۔اس پر نبی کریم ؐ نے فرمایایاعلی تم میرے بھائی، وزیر اور وصی وارث ہو۔نبی کریم نے متعدد مرتبہ فرمایا علی ؓمجھ سے اور میں علیؓ سے ہوں(ابن ماجہ ، سیوطی ، ابن کثیر)۔علیؓ سے زیادہ نبی ؐ کا مزاج آشنا کوئی نہ تھا نصاری نجران کا وفد بڑی شان و شوکت کے ساتھ سونے و جواہرات کے زیورات سے آراستہ فاخرانہ

لباس پہنے مدینہ پہنچے تاکہ مدینہ پہنچ کر اہل مدینہ کو اپنی طرف جذب کرلیں اور کمزور عقیدہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیں۔جب یہ وفد بارگاہ رسالت ؐمیں حاضر ہوا۔ تو رسول خداؐنے نجران سے آئے افراد کے ساتھ بے رخی کا اظہار کیا اور ان کی طرف بالکل توجہ نہیں دی جو شرکائے وفد کیلئے حیرت انگیز تھا کہ رسول ؐ نے پہلے دعوت دی اب بے رخی کیوں دکھا رہے ہیں ؟ علمائے نجران تین دن تک مدینہ میں سرگرداں رہے اور بے توجہی کا سبب نہ جان سکے جس پرچند لوگ انھیں حضرت علیؓکے پاس لے گئے اور تمام حالات سے انھیں آگاہ کیا حضرت علی ؓ نے علمائے نجران سے فرمایا: ’’تم اپنے زرق و برق لباس اتار کر پیغمبرؐکی خدمت میں عام لوگوں کی طرح سادہ لباس میں جاؤانہوں نے علی ابن ابی طالب ؓ کی بات مانتے ہوئے ایسا ہی کیا۔اس وقت پیغمبر اسلامؐ نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا۔ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں بھی قرآن نے حضرت علی ابن ابی طالبؓ کو نفس رسول قرار دیا۔(سورہ آل عمران آیت 61)رسول اللہ ؐنے نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ایک اور مقام پر فرمایا میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔(جامع ترمذی:جلد دوم )عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ ’علم نحو تمام علوم کا باپ ہے ‘۔اس علم کے موجد و موسس حضرت علیؓ ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے ہی ان صرف و نحو کے بنیادی قوانین املا کرائے، ’’صرف‘‘، نحو ہی کا ایک حصہ ہے۔غزوہ خندق میں حضرت علی ابن ابی طالبؓ جب عمر ابن عبدود کے مقابلے میں اترے تو رسول اللہ ؐنے فرمایا آج کل کفر کے مقابلے میں کل ایمان جارہا ہے ۔یوم خندق علی ابن ابی طا لبؓ کاعمر ابن عبدود کا مقابلہ کرنا قیامت تک میری امت کے اعمال سے افضل ہے (مدارج النبوۃ)

(Visited 5 times, 1 visits today)