آئی ایم ایف کا دباؤ یا کچھ اور۔۔۔۔ حکومت نے اچانک کس بڑے ادارے کا مالیاتی پیکج واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ؟ ناقابل یقین خبر آگئی

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ میں آکر برآمدی صنعتوں کے لئے توانائی کا پیکیج واپس لے لیا۔ ملک میں بڑھتا ہوا معاشی بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تاہم تمام صورت حا کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے برآمدی صنعتوں کے لئے

توانائی کا پیکیج واپس لے لیا۔ اس کے علاوہ برآمدی صنعت سے زیرو ریٹڈ درجہ واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم وفاقی مشیر کے ایک قریبی معاون کے مطابق اس بارے میں حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی ۔ اپٹما کے سرپرست اعلیٰ گوہر اعجازنے اس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس سے نہ صرف ملکی برآمدات خطرے میں پڑ جائیں گی اور نتیجتاً ملک کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا تین ارب ڈالرز کی برآمدات کم ہو جائیں گی جو 24ارب سے گھٹ کر 21ارب ڈالرز پر آجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صنعتوں کو گیس 4ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو دستیاب ہے۔ جبکہ پاکستان کی 70فیصد صنعتیں جو پنجاب میں ہیں انہیں قدرتی گیس 12 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر دی جا رہی ہے۔ اس امتیازی سلوک سے پنجاب میں ٹیکسٹائل صنعت ختم ہوجائے گی۔ اس حوالے سے اپٹما کا وفد آج جمعرات کو وزیراعظم کے مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے ملاقات کر رہا ہے۔ ملک کے نئے اقتصادی منیجرز نے برآمدی صنعتوں سے 6.5 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس اور 7.5سینٹ فی یونٹ بجلی کا پیکیج واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جو 30جون 2019تک کے لئے دیا گیا تھا۔ وزیراعظم کے مشیر کے ایک قریبی معاون نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مراعات دینے کا گزشتہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب خبر کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے واضح کیا ہے کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حوالے سے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،

بجلی اور گیس کے تمام صنعتی صارفین کو ایمنسٹی سکیم میں سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کرانا ہوگی، یکم جولائی کے بعد قانون سازی کر کے کارروائی کریں گے، پاکستان میں ایک لاکھ کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں، ٹیکس فائلر50 ہزارکمپنیاں ہیں۔ ایس ای سی پی چیئرمین کو خط لکھا ہے، باقی 50 ہزار کمپنیوں کو وہ نکالیں یا میں نکالوں گا، نان فائلر کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، قانون میں کوئی خامی ہے تو بیٹھ کر دیکھیں گے، غیر رجسٹرڈ ادارے 2 فیصد سیلز ٹیکس دیکر رجسٹر ہوسکتے ہیں، ایمنسٹی اسکیم میں سیلز ٹیکس کے واجبات کلیئر کرائے جا سکتے ہیں،غلطی کرنے والے اداروں کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کا موقع دے رہے ہیں، صنعتی اداروں کا ری ایکشن دیکھ کر سزا کا فیصلہ کریں گے۔ بدھ کو یہاں ایف بی آر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے بتایا کہ شکایت آرہی تھیں کہ لوگوں کو نوٹس موصول نہیں ہورہے اور اکاؤنٹس منجمد کیے جارہے ہیں، یہ ہدایت کی ہے کہ جس کا اکاؤنٹ منجمد کیا جائے اس کو24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے جبکہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حوالے سے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں ایک لاکھ کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں، ٹیکس فائلر50 ہزارکمپنیاں ہیں، ایس ای سی پی چیئرمین کو خط لکھا ہے، باقی 50 ہزار کمپنیوں کو وہ نکالیں یا میں نکالوں گا، نان فائلر کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم میں سیلز ٹیکس کے واجبات کلیئر کروائے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں بجلی کے صنعتی صارفین 3 لاکھ 41 ہزار ہیں جبکہ سیلز ٹیکس میں 38 ہزار ادارے رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر رجسٹرڈ ادارے دو فیصد سیلز ٹیکس دے کر رجسٹرڈ ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یکم جنوری کے بعد ایسے اداروں کیخلاف سخت کارروائی ہو گی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کاروبار کیلئے ماحول پیدا کرنا ہے،صنعتی اداروں کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے قانون کا بھی جائزہ لیں گے۔

(Visited 17 times, 1 visits today)