’میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔۔۔‘ رکن قومی اسمبلی تمام حدیں پار کر گیا ، غیر اخلاقی بات کہہ دی

" >

پشاور (ویب ڈیسک) رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ افغانستان کی محبت میں تمام اخلاقی حدیں عبور کر گیا، کہتا ہے کہ میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے حب الوطنی اور فرائض کو

پش پشت ڈالتے ہوئے تمام اخلاقی حدیں پار کر لیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جغرافیہ بدلتاہے، قومیں نہیں بدلتیں، میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا، محسن داوڑ کے متنازع ٹویٹ پر سوالات کھڑے ہوگئے۔سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی اسمبلی کے رکن نے ایسا بیان کیوں دیا؟ تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی اس پر اعتراضات کیے جارہے ہیں۔خیال رہے کہ تمام پختون خود کو پاکستانی کہلوانے پر فخر کرتے ہیں جب کہ محسن داوڑ خود کو پاکستانی کیوں نہیں کہتا۔ سوال ہی پیدا ہوتا ہےکہ داتا دربار حملہ ہو یا افغان سرحد پر چیک پوسٹوں پر حملے۔پاکستان میں اکثر دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں لیکن محسن داوڑ نے کبھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں پرآواز کیوں نہ اٹھائی؟محسن داوڑ کے اس ٹوئٹ پر ردعمل میں وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ محسن داوڑ کو میرا جواب ہے ”کلہ بہ زیدی“ کب جاﺅ گے ۔ انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کا قتل ہوا، اس پر محسن داوڑ نے آواز کیوں نہیں اٹھائی ، پوچھتاہوں کہ محسن داوڑ کون ہے اور اس کا تعلق کس سے ہے ؟۔ دوسری جانب کستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع شمالی و جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے فوجی ترجمان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں پریس کانفرنس کی ہے جسے کسی ٹی وی چینل سے عوام تک نہیں پہنچایا ۔پاکستانی پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو میں محسن داوڑ نے کہا کہ ”ہم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے اگر ثابت ہو جائیں تو ہمیں وہ سزا دی جائے جس کے مستحق غدار ہوتے ہیں ۔“محسن داوڑ اور علی وزیر نے قومی اسمبلی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ فنڈنگ کے الزامات پہلے بھی لگائے جاتے رہے ہیں مگر ثبوت نہیں دیے جاتے ۔ ”ہم قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔“اس سے قبل قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ یہ کون سی جمہوریت ہے جس میں ایک سرکاری محمکے کا ترجمان حکومت سے متعلقہ ہر معاملے پر رائے دے رہا ہے اور میڈیا کو یہ ہدایت بھی جاری کر رہا ہے پشتون تحفظ موومنٹ کو جواب دینے کے لیے ٹی وی پر نہ بلایا جائے ۔

(Visited 6 times, 1 visits today)