’’ بس بہت ہوگیا، اب ایکشن کا وقت ہے ۔۔۔‘‘ عمران خان سمیت پوری پارٹی حیران ، چوہدری سرور نے تہلکہ خیز اعلان کر دیا

" >

لاہور( نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو جہاں معاشی مسائل کے حل کے لیے مشکل اور پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے وہیں ایک معاملہ جماعت کے اندرونی تنازعات بھی ہیں۔میڈیا اور اپوزیشن کی تنقید کے ساتھ ساتھ جب پارٹی کے کرتا دھرتوں نے بھی ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال لیں تو

ڈرائنگ روم کی باتیں ٹی وی سکرینز کی زینت بن گئیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کے کابینہ کے اجلاس میں بیٹھنے پر اعتراض کیا تو جہانگیر ترین نے کہا کہ ’وہ جو بھی کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان کی مرضی سے کرتے ہیں۔‘ اس جماعتی گروپ بندی میں گورنر پنجاب چوہدری سروربھی اہم کردار سمجھے جاتے ہیں، اس حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے جب ان سے انٹرویو کیا تو پارٹی اختلافات پر ان کا کہنا تھا کہ ’اب سیز فائر ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اب پارٹی کی صورت حال ٹھیک ہو چکی ہے، ’وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ پارٹی کے معاملات پارٹی کے اندر ہی طے کیے جائیں ان کو عوامی سطح پر نہ لایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اب وزیر اعظم نے کہا ہے تو آپ دیکھ نہیں رہے کہ اب ہمارے کسی لیڈر یا ہم نے ایک دوسرے کے خلاف اب تلواریں نہیں نکالی ہوئیں۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے گروپ بندیوں کی تردید بھی کی تاہم اگلے جملے میں ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں ان کی پارٹی کے سبھی دھڑوں کے لوگ آتے ہیں۔ جہانگیر ترین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے ابھی آپ نے دیکھا نہیں کہ میں اوکاڑہ ان کے ساتھ گیا وزیر اعظم بھی وہاں موجود تھے۔‘انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان کو سبھی لیڈر مانتے ہیں تو وہ جب کہتے ہیں کہ ’پیس‘ تو سب کو ان کی بات ماننا پڑتی ہے۔ گورنر پنجاب سے جب سوال کیا گیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب

میں اس وقت تین متوازی حکومتیں چل رہی ہیں اور ایک حکومت تو خود گورنر ہاؤس سے چل رہی ہے۔ چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں لیکن آج تک اس وضاحت کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اب پارٹی کی صورت حال ٹھیک ہو چکی ہے، ’وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ پارٹی کے معاملات پارٹی کے اندر ہی طے کیے جائیں ان کو عوامی سطح پر نہ لایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اب وزیر اعظم نے کہا ہے تو آپ دیکھ نہیں رہے کہ اب ہمارے کسی لیڈر یا ہم نے ایک دوسرے کے خلاف اب تلواریں نہیں نکالی ہوئیں۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے گروپ بندیوں کی تردید بھی کی تاہم اگلے جملے میں ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس میں ان کی پارٹی کے سبھی دھڑوں کے لوگ آتے ہیں۔ جہانگیر ترین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے ابھی آپ نے دیکھا نہیں کہ میں اوکاڑہ ان کے ساتھ گیا وزیر اعظم بھی وہاں موجود تھے۔‘انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان کو سبھی لیڈر مانتے ہیں تو وہ جب کہتے ہیں کہ ’پیس‘ تو سب کو ان کی بات ماننا پڑتی ہے۔ گورنر پنجاب سے جب سوال کیا گیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں اس وقت تین متوازی حکومتیں چل رہی ہیں اور ایک حکومت تو خود گورنر ہاؤس سے چل رہی ہے۔ چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں لیکن آج تک اس وضاحت کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔مجھے جہانگیر ترین سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’صوبے کا چیف ایگزیکٹو وزیراعلیٰ ہوتا ہے اوروہی جواب دہ ہے ۔ ’گورنر کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کر رہا‘۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کر کے اقتدار میں آئی ہے اور لوگ اب ان وعدوں کے بارے میں پوچھیں گے اس لیے وقت آ گیا ہے کہ آپس کے اختلافات ایک طرف رکھ کے لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ہٹائے جانے کی افواہوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’عثمان بزدارابھی نئے ہیں لیکن اچھا کام کر رہے ہیں ان کو وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہے وہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔‘

(Visited 84 times, 1 visits today)