احترام رمضان آرڈیننس اور جنرل ضیاء الحق

" >

جنرل ضیاء الحق نے ۱9۹۱ء میں پاکستان میں کل دس دفعات پر مبنی ”احترام رمضان آرڈیننس“متعارف کروایاجس کے تحت روزے کے اوقات میں پبلک پلیسز (عوامی مقامات) پر کھانے پینے کی اشیاء بیچنے یا کھاتے ہوئے پکڑے جانے پر تین ماہ قید کیا جائے گا، یا پھر اسے ۵۰۰ روپے جرمانہ دینا

پڑے گایا پھر اسے بیک وقت دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اس قانون میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا جس کے مطابق جرمانے کی رقم پانچ سو (۵۰۰)سے بڑھاکر ۲۵۰۰۰ (پچیس ہزار)کردی گئی۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے یا پھر اس آرڈیننس سے کون کون سے ”ادارے“ رشوت لے کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چند سالوں پہلے ہوٹل مالکان چھپ چھپ کر کھانے پینے کی چیزیں بیچا کرتے تھے لیکن اب حال یہ ہے کہ متعلقہ اداروں اور با اثر لوگوں کی پشت پناہی اور سر پرستی میں بازاروں اور شاہراہوں پر سرِ عام ٹھنڈے مشروبات کے ٹھیلے اور کھانے کی مختلف اشیاء کے پتھارے موجود ہوتے ہیں جہاں بلاخوف و خطر عام دنوں کی طرح کھانے پینے کی اشیاء فروخت کی جارہی ہوتی ہیں اور لوگ بر سرِ بازار کھارہے ہوتے ہیں۔اسی طرح رمضان کا مہینہ آتے ہی بازار وں میں اشیاء کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ پرائس کنٹرول اتھارٹی اور اس کا پورا قانون رمضان میں غائب ہوجاتا ہے۔ خوردونوش کی اشیاء میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ”سستے بازار“او ر ”رمضان پیکج“کے نام پر عوام کو لوٹا جاتا ہے۔ پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگ جاتی ہیں۔ اشیاء کی کوالٹی بھی ناقص ہوجاتی ہے۔غریب آدمی روزہ کھولنے کے لیے پچاس روپے کلو والی چیز ۲۰۰ اور ۳۰۰ روپے کلو خریدنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔لوٹ مار کا بازار گرم ہوجاتاہے۔ اگر دوسرے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو غیر مسلم ممالک رمضان کے مہینے

میں مسلمانوں کے لیے سستے پیکجز کا اعلان کرتے ہیں لیکن مسلمان اپنے ہی ملک میں سہولتیں دینے کے بجائے زندگی اور مشکل بنادیتے ہیں۔بحیثیت مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ہم سے ہر اعتبار سے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن مسلمان اپنے ہی مقدس مہینے کی عزت واحترام کرنے کو تیا رنہیں۔احترام رمضان اور تحفظ شعائر اسلام کو یقینی بنانے کی اولین ذمہ داری ریاست کی ہے۔لیکن ریاست اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ احترام رمضان کے متعلق ۲۰۱۳ء میں ایڈووکیٹ محمد وقاص ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھاکہ رمضان المبارک میں خصوصی ٹرانسمیشن کے نام پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وقار اور اسلامی تشخص کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ مذہب کی ترجمانی ایسے لوگ کرتے ہیں جن کو اسلام کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتیں۔ یہ مقدمہ پانچ سال تک زیر سماعت رہا پھر کہیں جاکر ۹ مئی ۲۰۱۸ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے احترام رمضان کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنایا۔اس فیصلے میں انہوں نے ٹی وی چینلز کوپانچ وقت اذان نشر کرنے، اذان سے پانچ منٹ پہلے تک اشتہاروں کے بجائے درود شریف چلانے اور گیم شوز بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن چند دنوں بعد ہی نجی چینل اور پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے)نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ۹ مئی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے

روبرو چیلنج کردیا تھا۔ پھر اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے احترام رمضان کے حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ٹی وی چینلز پر پانچ وقت اذان نشر کرنے کا حکم بھی معطل کردیا تھا۔ اسی طرح مغرب کی اذان سے قبل اشتہارات نہ چلانے، درود شریف اور ملکی سلامتی کی دعائیں چلانے کا حکم بھی معطل کردیا گیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شعائر اسلام کو پسِ پشت ڈالنے کی سرگرمیاں قابلِ مذمت اور باعث تکلیف ہیں۔اسی طرح رمضان المبارک آتے ہی ناچنے گانے والے اور شعبدہ باز اینکر پرسن اور فلموں اور ڈراموں کے اداکار اسلامی اسکالر بن کر لوگوں کو دین سکھاتے ہیں حالانکہ وہ خود اسلام کی ”الف“ سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے پروگراموں کی نشر واشاعت کے پیچھے چینل مالکان کی ریٹنگ اورشہرت کی طمع و حرص کار فرما ہوتی ہے۔ یہ دین اسلام کے ساتھ انتہائی بیہودہ مذاق ہے۔ جس طرح کسی عام شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بغیر کسی تعلیم اور تجربہ کے ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج شروع کردے، اسی طرح ہر کسی ایرے غیرے اور ڈرامے باز کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میڈیا پر بیٹھ کر لوگوں کو اسلای تعلیمات سکھانا شروع کردے۔ایسے اداکاروں اور ڈرامے بازوں کو چاہیے کہ پہلے وہ خود اپنے اوپر اسلام نافذ کریں، اس کے بعد لوگوں کو سکھائیں۔ کیا اسلام صرف ایک مہینے کے لیے ہوتاہے؟ ان اداکاروں کا اسلام پورے سال

کہاں ہوتا ہے؟ ان کو صرف رمضان میں اسلام یاد آتا ہے وہ بھی اپنی مرضی کا۔ یقینی طور پر یہ حرکتیں اسلام کے ساتھ کھلا مذاق اور اسلام کی توہین کے زمرے میں آتی ہیں۔ اس مبارک مہینے میں مخلوط ماحول اور بے پردگی میں انعام کا لالچ دے کر مروو خواتین سے وہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرائی جاتی ہیں جو کسی بھی تہذیب یافتہ قوم کو زیب نہیں دیتیں۔ لیکن وہاں ہماری قوم انعام کے لالچ میں صحیح اور غلط کی تمیز کیے بغیر اخلاق باختہ حرکتیں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔اگر دس بارہ سال پہلے کے رمضان کو دیکھیں تو اس وقت رمضان کا پورا مہینہ اخلاص کے ساتھ ریاضت اور عبادت میں گزر تا تھا۔ وہ وقت تھا کہ لوگ رمضان کے مہینے میں ٹی وی سے دور رہنے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے اور اپنا زیادہ تر وقت عبادت اور ذکرو اذکارمیں گزارتے تھے۔ اکثر اوقات قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔ صرف یہی ایک مہینہ تھا جس میں لوگ خصوصی طور پر عبادت کا اہتمام کرتے تھے اور فضول کاموں سے دور رہتے تھے۔ بڑی سوچی سمجھی سازشوں سے تحت مسلمانوں کو عبادت سے دور کرنے کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی۔ غیر مناسب پروگرام اسلام کے سانچے میں ڈھال کر قوم کے سامنے رکھے گئے اور قوم نے بڑے پُر جوش انداز میں اسے گلے لگایا۔ اب حال یہ ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن کے بغیر نہ سحری مکمل ہوتی ہے اور نہ افطاری شروع ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے ان ٹرانسمیشنز کو ہی سب سے بڑی عبادت سمجھ لیا ہے۔سحری سے افطاری تک پورا دن انہی پروگراموں کو دیکھتے ہوئے گزرجا تاہے۔ اور جب تراویح کا وقت شروع ہوتا ہے تو اس وقت انعامی پروگرام چل رہے ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کا پورا مہینہ ایسے ہی نکل جاتا ہے۔رمضان ٹرانسمیشنز میں ٹی وی چینلز کی ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ افطار کے وقت روزہ کھولنے کا اعلان کرنے میں دوسرے چینلز کے مقابلے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر چینل کی کوشش ہوتی ہے کہ افطار کی خبر سب سے پہلے ہمارے چینل سے بریک ہو اور فوراً اذان شروع ہو۔ اس جلد بازی میں نہ جانے کتنے ہی بھولے بھالے مسلمانوں کا روزہ ضائع ہوجاتا ہے لیکن انہیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ حالانکہ روزے کے متعلق احتیاط ہونی چاہیے کہ وقت شروع ہونے کے ایک دو منٹ بعد ہی روزہ افطار کیاجائے۔ الیکٹرانک میڈیا کے اس رویے پر حکومتی اداروں کی مجرمانہ خاموشی مسلمانوں کے لیے اذیت ناک ہے۔ ریاستِ مدینہ جیسی ریاست کا عزم کرکے آنے والی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سرگرمیوں پر سختی سے نوٹس لے۔ احترام رمضان کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اور رمضان ٹرانسمیشنز کے لیے اصول و ضوابط اور ان کی حدود قیود وضع کرکے ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

(Visited 24 times, 1 visits today)