بریکنگ نیوز : یہ ایمنسٹی اسکیم نہیں بلکہ۔۔۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اصل حقیقت بتا دی

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم متعارف نہیں کرائی گئی بلکہ یہ اثاثے ظاہر کرنے کا قانون ہے۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کے

ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ بے نامی ایکٹ 2017 کو لوگ نظر انداز کررہے ہیں، 2018 میں جو ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی گئی اُس میں بے نامی ایکٹ کو نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بے نامی اثاثے جرم ہیں جس کے لیے 2017 میں قانون نافذ ہوچکا، گزشتہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم سے پہلے ہی بے نامی ایکٹ آچکا تھا مگر اُسے گزشتہ اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ قانون کا مقصد ہےبےنامی اثاثوں کو قانونی شکل میں لانا ہے کیونکہ 2017 سے پہلے اس طرح کے اثاثے جائز قرار دیے گئے تھے، بے نامی ایکٹ متعارف تو کرایا گیا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، موجودہ حکومت نے ہی آکر اس قانون پر عملدرآمد شروع کیا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ 40فیصد بینک اکاؤنٹس ٹیکس نیٹ میں نہیں جنہیں نیٹ میں لانا بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ آج وفاقی کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کے حوالے سے متعارف کرائی جانے والی اسکیم کی منظوری دی جس کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بے نامی پراپرٹی وائٹ نہیں کی جاتی تو قانون کے تحت ضبط کی جا سکے گی۔ ریونیو جمع کرنے کے لیے نہیں معیشت کی بہتری کے لیے اسکیم کی منظوری دی گئی۔دوسری جانب مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی ایمسنٹی سکیم میں حصہ لے سکتا ہے لیکن ارکان پارلیمنٹ، سرکاری عہدہ رکھنے والوں اور ان کے اہلخانہ پر پابندی ہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ آج اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کا اہم فیصلہ کرتے ہوئے 30 جون تک اس میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ یہ ایمنسٹی سکیم ماضی کی سکیم سے مختلف ہے۔ اس سکیم کا فلسفہ کاروباری حوصلہ افزائی ہے۔ آخری موقع ہے، ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔ اس سکیم کا مقصد ریونیو جمع کرنا نہیں بلکہ معیشت کو چلانا ہے۔ پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ میں رتی بھر اضافہ نہیں ہوا تھا۔ چیئرمین ایف بی آر کو ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کیے جا سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھے جائیں۔ رئیل سٹیٹ کے علاوہ تمام سیکٹرز پر 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے 4 فیصد کی بجائے 6 فیصد ٹیکس ادا کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی ایمنسٹی سکیم بہت آسان ہو۔ یہ سب کچھ پاکستان کے فائدے میں کر رہے ہیں۔ بے نامی اکاؤنٹس اور جائیداد اس سکیم کے تحت قانونی بنائے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے 3 سالہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم کے درمیان گزشتہ کئی مہنیوں سے مذاکرات چل رہے تھے، جو اب خوش اسلوبی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ بجلی کی اگر قیمت بڑھتی ہے تو 300 یونٹ استعمال کرنے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ معاشرے کے کمزور طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ احساس پروگرام کا بجٹ 100 ارب سے بڑھا کر 180 ارب روپے کیا جا رہا ہے۔

(Visited 51 times, 1 visits today)