حالیہ معاشرے میں بیلنس لائف ممکن کیوں نہیں ہے ؟ تلخ حقائق جن پر ہر سیاستدان بات کرنے سے کتراتا ہے

" >

سر جی میں اچھی جاب کرنا چاہتا ہوں۔ انٹرویو میں آئے اُمیدوار نے عبداللہ سے کہا۔ اچھی جاب کی تشریح کرو۔ عبداللہ نے کہا۔ جی، بس وہی کہ جس میں نام ملے، پیسہ ملے، کوئی ایک آدھ باہر ملک کا چکر، سالانہ بونس اور پروموشن۔ بس ذیادہ کچھ نہیں۔ ٹھیک

ہے، مگر کل مجھے آپ سے اچھا بندہ مل گیا پھر؟ کمپنی کا فائدہ اسی میں ہے کہ آپ کو نکال کے اسے رکھ لیں۔ تو آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟ جی، ایسے کیسے ہوگا؟ میں ہی سب سے بہتر ہوں۔ اگر آپکے ایسے ارادے ہیں تو پہلے سے بتا دیں میں ابھی جس کمپنی میں ہوں وہاں میری من چاہی ساری چیزیں مل رہی ہیں اور وہ بھی پچھلے 4 سالوں سے۔پھر بھی آپ وہ جاب چھوڑ کر یہاں آنا چاہتے ہیں؟ جی وہ، یہاں نام زیادہ ہوگا، امریکن کمپنی ہے نا! جی آپ جا سکتے ہیں۔ عبداللہ نے امیدوار کو تو فارغ کردیا مگر وہ نجانے کون سی سوچوں میں گھرتا چلا گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ دنیا کو بدل دینے کے دعوے کرنے والے، انسانیت کی خاطر سب کچھ کر گذرنے کے خواہش مند، اور ملک اور اُمت کی نشاۃِ ثانیہ کے خوابوں کی تعبیر کے سپہ سالار کب اپنی ذات کے مدار سے باہر نکلیں گے اور کب ایسے اداروں پر کام کریں گے جن کی بنیادیں مضبوط ہوں۔ہر شخص گنبد کا پتھر بننا چاہتا ہے جس پر سب کی نظر پڑے۔ بنیاد کا نہیں کہ جسے کوئی نہ دیکھے۔ مگر ربّ تو سب کچھ دیکھتا ہے۔ سب کو دیکھتا ہے۔ عشق، عشق کی ضد ہے۔ ایک سے کرو تو دوسرے کو چھوڑنا ہی پڑتا ہے، یا چھڑوا دیا جاتا ہے۔ بامقصد زندگی گذارنے کا دعویٰ کرنے والوں کو بیلنس لائف کا رونا نہیں رونا چاہئیے۔ بیلنس لائف تو وہاں ممکن ہو جہاں

معاشرے میں ہر کوئی اپنے حصّے کا کام کر رہا ہو یا کم از کم انصاف اور امن تو ہو۔ جہاں ایک ایک شخص کو پورے پورے اِداروں کا اور پوری پوری نسلوں کی آبیاری کا کام کرنا پڑے وہاں زندگی تیاگنی ہی پڑتی ہے۔ وہاں بیلنس لائف ممکن نہیں۔ جب تک آدمی کو رات کی تاریکی دن کی سفیدی میں تبدیل کرنا نہ آئے نصیبوں کی تاریکیاں دور نہیں ہوتیں۔اور جو بنیادیں ہوتی ہیں وہ مضبوط ہوتی ہیں خوبصورت نہیں۔ ان کو خوبصورت بنانے کے چکر میں وقت اور طاقت برباد نہیں کرنے چاہئیں۔ جس شخص کا نظریہ آپکے نظریے سے متصادم ہو وہ بنیاد میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا اگر چاہے بھی تو۔ بنیادوں میں اختلافِ رائے کا احترام نہیں کرنا چاہئیے۔ بچھو کے بچے پر رحم کھانا آدم کے بچے کو ہلاک کروا دیتا ہے۔ اگر کوئی آپ کے مزاج و مقصد کے مطابق نہیں تو اسے شروع سے ہی الگ کر دینا چاہئیے تاکہ وہ اپنی منزل پاسکے اور آپ کی بنیادوں میں رخنہ بھی نہ پڑے۔ وہ لوگ ہی اور ہوتے ہیں جن سے بنیادوں کا کام لیا جاتا ہے۔ خدا جب کسی کو چُن لے تو اسے جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے اور اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ان بنیادوں میں پھر ایسے شخص کا خون، دولت، عزت، نام سب چلی جاتی ہیں پھر کہیں جا کر ادارے بنتے ہیں۔جس شخص کو فیلڈ کی اِمامت دی جانی ہو اسے پہلے لوگوں کے پیروں تلے روند دیا جاتا ہے۔ آدمی کو چاہئیے کہ سر

جھکا کر کام کرتا رہے۔ دعویٰ دلیل مانگتا ہے۔ قدرت کا قانون ہے جتنا بڑا دعویٰ اُتنی ہی بڑی دلیل۔ آدمی کو چاہئیے کہ اپنے آپ پر کام کرتا رہے۔ غلطی ہو بھی جائے تو بس معافی مانگ لے اور پھر جُت جائے اُسی کام میں۔ کائنات میں سب سے زیادہ تعریف پر خوش ہونیوالا اللہ ہے اور سب سے جلدی معذرت قبول کرنے والا بھی وہی ہے۔ بندہ معذرت کر لے اور کوشش کرے کہ انفرادی نقائص اجتماعی بگاڑ نہ بنیں۔ جب اجتماعیت بگاڑ کا شکار ہوجائے تو افراد کی نہیں سنی جاتی۔ قدرت کبھی بھی پہلی بار میں رسوا نہیں کرواتی۔ گناہ جب تکرار سے عادت بن جائے تو پکڑ کی سبیل ہو۔ پہلی بار تو قدرت خود رجوع کا انتظار کرتی ہے۔ نفس پر نگاہ رکھنی چاہئیے یہ کائنات کی واحد مخلوق ہے جو بیمار ہو تو پھلے پھولے اور صحتمند ہو تو مر جاوے۔جو لوگ بنیادیں رکھتے ہیں وہ قربانی کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں اور انعامات کے وقت پیچھے اور چپ چاپ اپنا کام کرکے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کو تو سالوں اور کبھی کبھار صدیوں بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ کیا کر گئے۔ کسی سے تعریف کی توقع نہ رکھیں۔ بڑی کم ظرفی کی بات ہے کہ کام خالق کے لئے کریں اور صلہ مخلوق سے چاہیں۔ جس ملک میں لوگ تنقید و تنقیص کا فرق نہ سمجھ پائیں وہاں مشورہ لینا اور دینا دونوں ہی کارِ زحمت ہیں۔ حاسدوں سے نہ ڈریں۔ جو کام اللہ کے لئے ہو وہ غاصبوں کےلئے آگ ہوتا ہے۔ بس کام کرتے رہیں اور کرتے رہیں۔ آخر میں عبدیت، دعا اور حیرت باقی رہ جائے گی۔ عشق بے چارہ تو عبدیت میں گم ہوجاتا ہے اور وہ بنیادیں جو عبدیت سے جنم لیتی ہیں اُنھیں معبود خود قائم رکھتا ہے۔

(Visited 11 times, 1 visits today)