شوہر کا شادی کی پہلی رات بیوی پر رعب قائم کرنے کیلئے انوکھا اقدام ،ایسا کیا کام کیا کہ دلہن کوہسپتال داخل کرانا پڑ گیا؟‎

" >

مصر میں ایک شخص نے اپنی نئی نویلی دلہن کو سر پر ڈنڈا مار کر زخمی کر دیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی۔ ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شوہر کا شادی کی پہلی رات بیوی پر رعب قائم کرنے کے لیے انوکھا اقدام دیکھنے میں آیا ہے۔

جہاں اس نے شادی کی پہلی رات ہی بیوی پر تھپڑوں کی بارش کر دی اور سر میں ڈنڈا دے مارا جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ دولہے نے پولیس کو ابتدائی اعترافی بیان میں کہا ہے کہ میری ماں نے مجھے تاکید کی تھی کہ اپنی بیوی کو پہلے ہی دن قابو میں رکھنا ہے ، دولہے نے مزید بتایا کہ میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے بھائیوں نے ایسا نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی بیویاں اپنے شوہروں کی ایک نہیں سنتی۔دولہے نے بتایا کہ اس نے گھر لاتے ہی دلہن کو تین تھپڑ رسید کیے جس کے جواب میں دلہن نے بھی ایک دو تھپڑ مجھے مارے ،جس پر مجھے اشتعال آگیا اور کچن میں گیا اور لوہے کا ڈنڈا پکڑ کر اس کے سر پر دے مارا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دلہن کو عروسی جوڑے میں اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ دلہن کو سنگین فریکچرز آئے ہیں۔ جبکہ ایک روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟فرمایا:” میرے دو اْمتی اللہ تعالی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں .ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں.اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے

کہاپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو.ظالم جواب دیتا ہےیا رب ! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں.تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاددے .یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئےاور فرمانے آبدیدہ ہوگئےاور فرمانے لگے :وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا. )لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں.اب اللہ پاک طالب انتقام(مظلوم) سے فرمائے گا : نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ ،وہ سر اٹھائے گا, جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا:یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں. یا رب!کیا یہ کسی نبی , کسی صدیق اور شہید کے ہیں ؟اللہ تعالی فرمائے گا :جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں.وہ کہے گا : یا رب ! بھلا اسکی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟اللہ تعالی فرمائے گا : تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے.اب وہ عرض کریگا :یا رب کس طرح؟اللہ جل شانہ ارشاد فرمائے گا: اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے.وہ کہے گا :یا رب میں نے معاف کیا.اللہ پاک فرمائے گا: اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ.اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مومنین کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے.

(Visited 151 times, 1 visits today)