اسد عمر کے جاتے ہی چوہدری نثار کا پاکستانی سیاست کو سرپرائز ۔۔۔ اچانک کس جماعت میں شامل ہوگئے؟ بالاخر چکری کے چوہدری نے اپنا سیاسی قبلہ درست کرنے کا فیصلہ کر لیا

" >

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے ساتھ لندن میں ملاقات متوقع ہے جس کے بعد وہ ممکنہ طور پر صوبائی اسمبلی کی نشست پر حلف اٹھائیں گے ۔نجی ٹی وی ” ہم نیوز “ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ چوہدری نثار نے ن لیگ

میں مزاحمتی سیاست کا بیانیہ رد ہونے کے بعد رابطوں کا فیصلہ کیا اور اسی سلسلے میں ان کی شہبازشریف کے ساتھ لندن میں ملاقات متوقع ہے ۔ چوہدری نثار کی جانب سے 24 اپریل کے بعد صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر حلف اٹھانے کا امکان ہے تاہم وہ فیصلہ شہبازشریف سے ملاقات کے بعد کریں گے ۔دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے عثمان بزدار کو تبدیل کرنے پر ساتھیوں سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم کے قریبی لوگوں کے مطابق چوہدری نثار پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھالیں تو وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن سکتے ہیں تاہم ق لیگ نے تبدیلی کی مخالفت کی، پنجاب میں اپوزیشن بھی اپنا وزیراعلیٰ لانے کی کوشش کررہی ہے،حمزہ شہباز اور دیگر لوگوں نے پیپلز پارٹی ،ق لیگ اور آزاد ارکان سے بھی رابطہ کیا ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں گفتگو کررہے تھے ۔روزنامہ جنگ کے مطابق حامد میر نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ واقعات کی وجہ سے وزیراعظم کا عثمان بزدار پرا عتماد کم ہوگیا ہے، عمران خان کے خیرخواہ کافی دنوں سے انہیں عثمان بزدار سے متعلق رائے پر نظرثانی کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشورہ کیا ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل کرنا چاہیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے کون مناسب شخص ہوگا، ق لیگ کے پرویز الٰہی نے عثمان بزدار کو ہٹانے کی سخت مخالفت کی ہے.ان کاکہنا تھا کہ اسلام آباد میں عمران خان کے اردگرد موجود لوگ کہتے ہیں کہ چوہدری نثار رکن پنجاب اسمبلی

کا حلف لے لیں تو وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن سکتے ہیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کے اندر بہت زیادہ گروپنگ ہے، وزیراعلیٰ کیلئے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چند ناموں پر بھی عمران خان نے غور کیا ہے، پنجاب میں اپوزیشن بھی اتحادیوں سے مل کر اپنا وزیراعلیٰ لانے کی کوشش کرسکتی ہے، حمزہ شہباز سمیت اپوزیشن کے دیگر لوگ اس کیلئے کوششیں کررہے ہیں، انہوں نے پیپلز پارٹی ،ق لیگ اور آزاد ارکان سے بھی رابطہ کیا ہے، ن لیگ چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کو اچھی وزارتیں دیدے تو عثمان بزدار کو ہٹاسکتی ہے۔جیو کے اسی پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ عوام کو ریلیف نہ دیا اورآئیایم ایف کی شرائط کو مانا گیا تو مشکل ہوجائے گی، وزیراعظم نے تسلیم کرلیا کہ ان کی معاشی پالیسی ٹھیک نہیں تھی، حفیظ شیخ کے ڈونرز ایجنسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، عمران خان ساری ٹیم ہماری لے آئے ہیں کہیں وزیراعظم بھی پیپلز پارٹی کا کوئی سابقہ رکن نہ بن جائے، موجودہ حالات میں میثاق معیشت کی سخت ضرورت ہے۔علی زیدی نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ ٹیکنوکریٹ پوزیشن ہے ماضی میں جتنے بھی وزرائے خزانہ رہے وہ سینیٹر بن کر آئے یا ٹیکنوکریٹ تھے،مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ عوام کا مسئلہ کسی کو بے نقاب کرنا نہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے،حکومت کی معاشی و خارجہ پالیسی ناکامی کی طرف جارہی ہے موجودہ حالات میں حکومت اور اپوزیشن میں میثاق معیشت کی سخت ضرورت ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت نے حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش کی ہے، پی ٹی آئی نے حکومت میں آکر نہ کوئی قانون سازی کی نہ کسی شعبہ میں اصلاحات کی ہیں، حکومت ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکی تو اس میں عام آدمی کا کیا قصور ہے، عام آدمی نے عمران خان کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا، عمران خان بتائیں نو مہینے میں ان کی تبدیلی اور اصلاحات کہاں ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ میں ہی نہیں آتے ہیں، معیشت میں بہتری کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لیں ہم ساتھ چلنے کیلئے تیار ہیں، موجودہ حکومت نے آٹھ ماہ میں 5.2ارب ڈالرز کا قرضہ لیا ہے

(Visited 553 times, 1 visits today)