موٹی ہیں تو کیا ہوا ہیں تو صنف نازک ۔۔۔۔۔ پاکستان میں موٹاپے کا شکار خواتین نے فیشن کا شوق پورا کرنے کے لیے انوکھا قدم اٹھا لیا

" >

کراچی (ویب ڈیسک)جب آپ کہیں کپڑے خریدنے جائیں تو دکاندار بھی باڈی شیمنگ کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں کہ آپ کے سائز میں تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، پہلے وزن کم کریں پھر ہماری شاپ پر آئیں۔‘اگر آپ کا بھی وزن زیادہ ہے اور آپ کو پلس سائز کا لباس ہی پورا

معروف صحافی فرحت جاوید بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میان لکھتی ہیں۔۔۔۔ آتا ہے تو آپ یقینا ڈاکٹر زہرہ حسین کی اس بات سے اتفاق کریں گی۔ڈاکٹر زہرہ حسین کراچی میں رہتی ہیں اور جسمانی بنیاد پر تضحیک یعنی باڈی شیمنگ کے خلاف سرگرم ہیں۔ وہ موٹاپے کا شکار ان خواتین کے لیے جدید لباس ڈیزائن کرنے کے علاوہ ایسی خواتین کی تھراپی بھی کرتی ہیں جو اپنے جسم اور ظاہری شکل و صورت سے متعلق اپنے اردگرد موجود لوگوں کے رویوں کی وجہ سے پریشان ہوں۔انھوں نے حال ہی میں ایک ایسی فیشن برانڈ متعارف کرائی ہے جو ان خواتین کے لیے جدید کپڑے ڈیزائن کرتی ہے جن کا سائز عام طور پر پاکستانی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔میں نے سوچا کہ میں ایسے کپڑے ڈیزائن کروں کہ لوگ سوچ بھی نہ سکیں کہ وہ ایسے کپڑے کسی موٹے شخص کو پہنے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک پلس سائز لڑکی کے لیے پاکستان میں کپڑے خریدنا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہاں ایسا لگتا ہے بس تین قسم کے سائز ہیں: سمال، میڈیم اینڈ لارج، پلس سائز کے لیے کم ہی کچھ ملتا ہے۔لیکن باڈی شیمنگ کے خلاف آگاہی پھیلانے تک کے اس سفر میں انھیں خود بھی اکثر تضحیک آمیز رویے کا سامنا رہا، کیونکہ ان کا وزن اپنے اردگرد موجود دیگر بچوں کی نسبت زیادہ تھا۔’بچپن سے مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں بہت ورتھ لیس یعنی بیکار ہوں، میری کوئی وقعت نہیں اور کوئی میری عزت نہیں کرتا۔ مجھے بس یہ لگتا تھا کہ

میں ایک مخصوص سائز کی ہوں گی تب ہی میں قابلِ قبول ہوں گی۔خیال رہے کہ پاکستان میں باڈی شیمنگ پر زیادہ بات نہیں کی جاتی، یہاں تک کہ عام طور پر کسی بھی شخص کی جسمانی ساخت سے متعلق رائے دینا، ہتک آمیز رویہ اختیار کرنا، مذاق اڑانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے اور اس کا سامنا عموماً بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔نفسیاتی امراض کے ماہرین کے مطابق عام طور پر ایسے جملے بچے کی شخصیت پر انتہائی منفی اثرات ڈالتے ہیں جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ڈاکٹر زہرہ حسین کہتی ہیں کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے وزن کے علاوہ کچھ نہیں ہیں، ‘ مجھے لگتا تھا کہ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو کوئی بھی آپ کو گھاس نہیں ڈالتا، آپ کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے ہیں کہ بس آپ تو صرف جسم کا وزن ہی ہے، اور اس وزن کے علاوہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔موٹا ہونا کسی کی شخصیت بن جاتی ہے، اس طرح یہاں موٹے لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے کہ موٹے ہو گے تو آپ کی شادی نہیں ہو گی، آپ فیملی ایونٹس میں نہیں جا سکتے، آپ نئے دوست نہیں بنا سکتے۔لیکن چند برس پہلے انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سوچ کے خلاف آواز اٹھائیں گی اور آگاہی پھیلائیں گی، جس کے بعد انھوں نے سب سے پہلے فیس بک پر ‘پلس سائز پاکستان ۔ زارا کروی اینڈ کو’ نامی گروپ تشکیل دیا، اس گروپ میں وہ جسم کا مذاق اڑانے کے مسئلے پر بات کرتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ آغاز میں تو بہت سی ایسی لڑکیوں نے رابطہ کیا جو اس قدر ڈپریشن کا شکار تھیں کہ وہ خود کشی کا فیصلہ کر رہی تھیں۔ ‘میں نے سوچا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے افراد اپنے جذبات شیئر کریں جو دوسروں کی جانب سے باڈی شیمنگ کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے افراد اعتماد کھو چکے ہوتے ہیں،

یہ دوسروں میں گُھلنا ملنا بند کر دیتے ہیں اور یہ اکثر دوست نہیں بناتے۔ اپنے احساسات شیئر نہ کرنے کے باعث یہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔گروپ میں ہم اپنے مسائل پر بات کرتے ہیں، جن خواتین نے باڈی شیمنگ کا سامنا کیا ہو، ان کا مذاق اڑایا گیا ہو تو وہ اس بارے میں لکھتی ہیں، خوشی کا موقع ہو یا انھیں اداسی محسوس ہو رہی ہو وہ اپنی تصاویر کے ذریعے یا لِکھ کر شیئر کرتی ہیں۔ اس سے گروپ میں دیگر خواتین بھی خود کو پراعتماد محسوس کرتی ہیں۔لیکن باڈی شیمنگ صرف ان افراد کی ہی نہیں کی جاتی جن کا وزن زیادہ ہے، ایسی خواتین یا مرد جو دبلے پتلے ہوں ان کو بھی اکثر اسی قسم کے منفی جملے سننے کو ملتے ہیں۔ اسلام آباد کی رہائشی صائمہ ارشد کہتی ہیں کہ وہ جب بہت دبلی تھیں تو سب کہتے کہ ‘کچھ کھایا پیا کرو’، اب جب میں نے وزن بڑھایا ہے تو وہی لوگ کہتے ہیں کہ جِم جاؤ، ورک آؤٹ کرو، وزن کم کرو، کم کھاؤ، وغیرہ، تو میرے خیال میں لوگوں کو اپنی رائے اپنے پاس ہی رکھنی چاہییے۔’باڈی شیمنگ صرف ان افراد کی ہی نہیں کی جاتی جن کا وزن زیادہ ہے، ایسے افراد جو دبلے پتلے ہوں ان کو بھی اکثر منفی جملے سننے کو ملتے ہیں۔ڈاکٹر زہرہ کے مطابق یہ ضروری ہے کہ ’والدین اور رشتہ دار کم سن بچوں کو ان کے موٹا یا پتلا ہونے کی وجہ سے ایسے ناموں سے نہ پکاریں جس سے بچہ یہ محسوس کرے کہ اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یا اس کے جسم میں کچھ اتنا برا ہے کہ سب اسے ناپسند کر رہے ہیں۔’وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کریں کہ وہ اپنے اردگرد موجود دیگر بچوں کو ان کے جسم کے سائز، رنگت یا قد کاٹھ کی بنا پر نہ جانچیں، صرف اسی صورت میں باڈی شیمنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ اور وہ خواتین اور مرد جو سمجھتے ہیں کہ ان کو باڈی شیم کیا جا رہا ہے وہ خود سے محبت کرنا سیکھیں اور دوسروں کی رائے پر توجہ نہ دیں۔’

(Visited 31 times, 1 visits today)