بھارت میں عام انتخابات : بی جے پی الیکشن جیت جائے گی مگر مودی وزیراعظم نہیں بن سکے گا بلکہ اسکی جگہ پر ۔۔۔۔۔ دنگ کر ڈالنے والی پیشگوئی

" >

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت میں عام انتخابات کی مہا یدھ شروع ہے۔ ابھی پہلا مرحلہ ہے۔ بھارتی لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس سیٹوں کیلئے چناؤ دنیا کی سب سے بڑی انتخابی مشق ہے۔ سب سے بڑی جمہوریہ کے نوے کروڑ ووٹر اگلے پانچ سالوں کیلئے اپنے نمائندوں کا چناؤ کرینگے۔یہ انتخابی مشق اپریل کی گیارہ تاریخ کو شروع ہوئی اور 19 مئی تک جاری رہے گی۔

نامور کالم نگار طارق محمود چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ الیکشن برصغیر کے روایتی انتخابات کی طرح دو نظریات ، دو سوچوں ، طرز فکر اور ان نظریات کو لیکر چلنے والی شخصیات کی مابین ہیں۔ ہندو توا کے پرچارک ، گرگ باراں دیدہ ، مودی جی، جس کی سیاست کا خمیر انتہا پسندی اور برہمن شناخت سے اٹھا۔ مودی جی پارلیمانی جمہوری سیاست کے طالب علموں کیلئے کیس سٹڈی ہے۔ ٹی سٹال پر چاے بیچنے والا لڑکا آر ایس ایس کے مقامی دفتر میں چاکری سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرتا ہے اور آخر کار عصر حاضر کی سب سے بڑی جمہوریہ کا پردھان منتری بن جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں اس کے کھاتے میں گجرات ایسی خوشحال ریاست کی پندرہ سالہ چیف منسٹری بھی تو لکھی ہوئی ہے۔ مقابلہ مودی جی کا برصغیر کی سب قدیم سیاسی جماعت کانگریس سے ہے۔ قیادت اس کانگریس کی اب نہرو خاندان کے جواں سال انتھک شہزادے راہول اور اس کی خوبرو ماں جائی پریانکا کے ہاتھ میں ہے۔ رسمی قیادت البتہ نہرو خاندان کی اطالوی نڑاد بہو سونیا گاندھی کے ہاتھ میں ہے۔ جو اس سے پہلے دو مرتبہ کانگریس کو الیکشن جتوا چکی ہیں۔ مرنجاں مرنج من موہن سنگھ جی تخت دلی پر بیٹھے ضرور تھے لیکن ، حاکم کے پیچھے حکم کسی اور کا چلتا تھا۔ نہرو خاندان کو جدید دور میں سب سے زیادہ مرتبہ حکمرانی کرنے والے خاندان کا درجہ حاصل ہے۔ بہر حال اس وقت اوڑی سے جزائر انڈیمان تک حصول اقتدار کی کشمکش جاری ہے۔

دو اتحاد مد مقابل ہیں بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے اور کانگریس کی سربراہی میں یو پی اے۔پہلے مرحلے کے آغاز سے چند روز قبل حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے پچھتر نکاتی منشور کا اعلان کیا۔ سنکلپ پتر نامی اس دستاویز میں بی جے پی کے بنیادی فلسفے کو مزید مضبوط کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس پتر میں ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے اور بابری مسجد کی جگہہ رام مندر تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔منشور کا اعلان مودی جی کے دست راست راج ناتھ نے اپنے ہم راہیوں کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منشور اگلے پانچ سالوں میں ایک سو تیس کروڑ بھارتیوں کو ان کے سپنوں کی تعبیر دے گا۔ منشور میں حسب معمول پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کی مالی مدد کی جائے گی۔ شاید اشارہ کشمیری شہریوں کی جانب ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی کوشش میں تو مودی سرکار پچھلے پانچ سالوں میں بھی ناکام رہی۔ راستے کی ایک رکاوٹ راجیہ سبھا میں اکثریت کا نہ ہونا ہے۔ آئندہ کیا ہوگا۔ یہ مذموم کوشش کامیاب رہے گی یا ناکام۔یہ تو الیکشن کے نتائج بتائیں گے۔ لیکن اس حوالے سے سب سے پہلے اور موثر ترین آواز مقبوضہ کشمیر کے ان لیڈروں نے اٹھائی ہے جو کبھی بھارتی سرکار کے اتحادی ہوا کرتے تھے۔

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے تو علی الاعلان کہہ دیا جس دن بھارت نے ایسا کیا اسی روز ہم “آزاد ” ہو جائیں گے۔ بھارت کا ترنگا کسی کو نہیں لہرانے دینگے اور نہ ہی پنڈتوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے کی اجازت دی جائے گی۔ بھارتی نیتا اپنے ہی پر وردہ لیڈروں کو کس طرح کنٹرول کرے گا۔ یہ مستقبل میں پتہ چلے گا۔ ویسے بھی اصل نقشہ گری تو انتخابی نتائج کے بعد ہوگی۔ اگرچہ پاکستان میں تو حاکم وقت نے عجیب سی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایسی خواہش کہ ابھی تک یقین نہیں آتا۔ بی بی سی کو انٹرویوز میں کپتان نے کہا کہ مودی جی جیت گئے تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ کشمیر کے حالات کا کپتان کو زیادہ پتہ ہے یا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو۔ جنہوں نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن ڈرامہ کا مکمل بایکاٹ کیا۔ کپتان انٹرویو دینے سے پہلے حریت کانفرنس کے کسی راہنما سے بریفنگ ہی لے لیتے۔ بہرحال بھارت میں عام انتخابات کے متعلق تجزیوں ، تبصروں اور پیش گویؤں کو سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے تین سو تیس نشستیں حاصل کی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ مودی جی کی حاصل کردہ نشتوں کی تعداد پہلے سے کم رہے گی لیکن اب بھی مودی جی ہی کا پلہ بھاری ہے۔ تینتالیس فیصد بھارتی مودی اور تیئس فیصد راہول کے حامی ہیں۔ یہ بھی پیش گوئی ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادی دو سو سڑسٹھ سیٹوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت سازی کیلئے دو سو بہتر نشتیں درکار ہوتی ہیں۔ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے متعلق پیش گوئی کی جارہی ہے کہ وہ ایک سو ساٹھ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ جو کہ ماضی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی ہے۔ تاہم حکومت سازی خواب ہی رہے گی۔ ایک سو چالیس نشستیں ایسی ہیں جو چھوٹی اور علاقائی طور پر مضبوط جماعتوں کے حصہ میں آئیں گی۔بھارتی سیاست کے اسرار و رموز سمجھنے والے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ابھی کوئی حتمی تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہے۔ ابھی چھ مراحل باقی ہیں۔ لیکن موجودہ اعداوشمار بتاتے ہیں مودی جی الیکشن تو جیت جائیں گے لیکن ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی اور مودی جی کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ کچھ واقفان حال کہتے ہیں کہ حکومت تو بی جے پی کے بن سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ تخت دہلی پر گجرات کاقصائی بیٹھے۔(ش س م)

(Visited 23 times, 1 visits today)