عہد خلافت میں پرانا،خشک اور متروک کنواں کا ناقابل یقین واقعہ

" >

”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کا علم ہو گیا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاراستہ روکنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں علامہ محمد ولید الاعظمی العراقی زہری رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرے کے لیے مدینہ سے نکلے اور رابغ اور مکہ کے درمیان عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشربن سفیان الکعبی ملا۔اس نے عرض کیا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کا علم ہو گیا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاراستہ روکنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔عورتیں اور بچے بھی ان کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے چیتوں کی کھال کا لباس پہنچ رکھا ہے ۔یعنی عداوت میں بہت پختہ ہیں اور وادیِ ذی طویٰ میں پہنچ چکے ہیں اور آپس میں عہدوپیمان کررہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ہر گز داخل نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے گھوڑا سوار دستوں کی کمان حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اسلام قبول کرنے سے پہلے) کے حوالے کی ہے اور وہ ان سے قبل کراع الغمیم میں پہنچ چکا ہے ۔ “یہ خبر سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ! قریش پر ۔جنگوں نے انہیں پہلے ہی مارڈالا ہے اور یہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئے ۔انہیں کیا ہو گیا ہے ؟اگر یہ عقل سے کام لیتے تو میری مخالفت کی بجائے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیتے ۔اگر عرب کے باقی قبائل اورسرداروں سے مجھے مقابلہ کرنے دیتے تو وہ قبائل مجھے شہید کر دیتے اور قریش کی دلی مراد پوری ہو جاتی یا پھر اللہ تعالیٰ مجھے ان پر

فتح عطا فرما دیتا تو یہ جوق درجوق اسلام میں داخل ہو جاتے ۔اگر اسلام میں داخل نہ ہونا چاہتے تو لڑائی لڑکر میرا مقابلہ کرتے ۔اس صورت میں ان کی قوت زیادہ ہوتی ۔اب قریش کا کیا گمان ہے ؟خدا کی قسم! میں اس دینِ حق کے لیے جہاد کرتا رہوں گا ،یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے یا پھر اس راہ میں مجھے شہید کر دیا جائے۔“اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:”کون شخص ہمیں ایسے راستے کا پتہ دے گا جو اس راستے سے ہٹ کر ہو جس پر قریش آرہے ہیں ؟“یہ سن کر بنواسلم کے ایک شخص نے عرض کیا :”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ خدمت سر انجام دوں گا۔ “پس اس شخص نے گھاٹیوں کے درمیان سے ایک سخت ،پتھر یلے اور غیرہموار راستے کا پتہ بتایا ۔لوگ اس راستے پر چلے اور مسلمانوں کو سخت مشقت اٹھائی پڑی اور بالاخر مسلمان ایک ہموار زمین پر آپہنچے اور وادی میں سے باہر نکل آئے ۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا:”توبہ اور استغفار کی کثرت کرو۔“لوگ استغفار کرنے لگے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بیشک بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے کا جو حکم دیا تھا ۔وہ دراصل استغفار ہی کا حکم تھا مگر اس قوم نے اس حکم کی تعمیل نہ کی ۔“ابن شہاب کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا:”تم دائیں

جانب کے راستہ المرار کی چوٹی پر سے ہوتے ہوئے مکہ کے عین نیچے حدیبیہ کے مقام پر پہنچ جاؤ۔ “مسلمان اس راستے سے جب حدیبیہ پہنچے اور قریش کے لشکر نے گردو غبار اُڑتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ مسلمانوں نے اپنی راہ بدل لی ہے ،لہٰذا وہ مکہ کی جانب واپس لوٹے۔شنیتہ المرار کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُونٹنی بیٹھ گئی ۔لوگوں نے کہا:”اونٹنی تھک کر بیٹھ گئی ہے ۔“مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ تھک کر نہیں بیٹھی بلکہ اسے اسی ذات نے روک دیا ہے جس نے مکہ میں ہاتھیوں کا داخلہ روک دیا تھا ۔قریش آج بھی مجھ سے معقول مطالبہ کریں گے اور صلہ رحمی کا واسطہ دیں گے تو میں ان کا مطالبہ قبول کرلوں گا۔“اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا:”اسی مقام پر ڈیرہ ڈال دیں ۔“لوگوں نے عرض کیا:”یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم )اس وادی میں تو پانی نہیں ہے ۔“اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک کودیا ۔اس صحابی کا نام حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس متروک (جس سے پانی لینا چھوڑ دیا گیا)کنویں میں اترو اور اس کے درمیان میں یہ تیر گاڑ دو۔“چنانچہ حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اترے اورتیر حسب ارشاد گاڑدیا۔تیر گاڑتے ہی اس پرانے ،خشک،اور متروک کنویں میں سے (معجزے کے طور پر )پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا اور پانی کی کوئی کمی نہ رہی۔

(Visited 97 times, 1 visits today)