اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ؟ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے اہم رواداد

" >

عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں غیر مسلموں کے معاشی،تعلیمی سیاسی حقوق محفوظ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل وانصاف ،رواداری ،انسان دوستی اور انسان نوازی کی بے نظیر مثالیں قائم کیں علا مہ ایاز ظہر ہاشمی :دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کے بانی حضرت محمد

صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم ان کی امت ہیں ۔کوئی بھی مسلمان امتی ہونے کے ناطے کبھی بھی کسی بھی الہامی مذہب یا عقیدہ پرد شنام طرازی نہیں کر سکتا اور کسی پیغمبر کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔مسلمان ایک لاکھ 24ہزار پیغمبروں بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا سچا نبی مانتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں ۔تب جا کر ایک مسلمان مکمل ہوتا ہے ۔یہ ایک مخصوص گروہ کے لوگ ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر د ہشت گردی کو بڑھا رہے ہیں ۔یقین جانےئے ان کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ،عقیدہ دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔عہد رسالت میں جہاں غیر مسلموں کے معاشی،تعلیمی سیاسی حقوق محفوظ تھے ،وہیں انہیں مذہبی آزادی کا پورا اختیار تھا،چنانچہ جب نجران کے عیسائی مدینہ میں حضرت رسول کریم کے پاس حاضر ہوئے تو اس وقت آپ مسجد نبوی میں نماز عصر سے فارغ ہوئے تھے ۔یہ لوگ نہایت عمدہ لباس پہنے ہوئے تھے ۔جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو وہ مسجد میں ہی نماز ادا کرنے لگے ۔اس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں نماز پڑھنے دو ۔انہوں نے مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل وانصاف ،رواداری ،انسان دوستی اور انسان نوازی کی بے نظیر مثالیں قائم کیں اور ظالموں کے ظلم کا بدلہ حلم وشرافت اور

عفودرگذر سے دیا،مکہ والے کے ظلم وستم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فراخ دلی سے معاف فرما کر اعلیٰ رواداری کا بہترین عملی مظاہرہ کیا،اسے تاریخ بھی رشک کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رواداری کی ایک بہترین مثال یہ ہے کہ آپ نے غیر مسلموں کے حق میں بارش کی دعا فرمائی۔ابو سفیان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا اے محمد ! آپ صلہ رحمی کرنے کا حکم لے کر آئے ہیں ۔آپ کی قوم ہلاک ہورہی ہے ۔ان کے واسطے اپنے مولاسے دعا کریں ۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور مسلسل سات دنوں تک ابررحمت ان پر اس قدر برسا کہ لوگوں نے بارش کی زیادتی کی وجہ تکلیف سے آپ کو آگاہ کیا اس پر آپ نے یہ دعا کی ”کہ اے خدا! ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا۔ “اس پر بادل آپ کے سر چھٹ گئے اور اردگرد کے علاقوں کو سیراب کرنے لگے۔کسی یہودی کو آپ کی مجلس میں چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح مسلمانوں کے لیے دعا دیتے اسی طرح ان کو بھی دیتے۔اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال اچھا کرے ۔روایت میں ہے کہ اس دعا کے شوق میں یہودبن بن کر چھینکتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پھر بھی اس دعا سے نوازتے۔مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق (اور بخاری میں بھی )غیر مسلم کو دعا دینے سے متعلق بہت سی

روایات کو باقاعدہ ایک باب کے تحت جمع کیا گیا ہے ۔اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ بھی کیسی خیر خواہی کی تعلیم دی ہے ۔غیر مسلموں کی عیادت کرتے اور ان کے گھر جاتے تھے ۔غیر مسلمانوں کی ہدیہ اور تحفہ دینا اور ان کے ہدئیوں کو قدر کے ساتھ قبول کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی ۔حدیث کی کتابوں میں اس سلسلے میں بہت سے واقعات مروی ہیں ۔ایک غیر مسلم فرما روانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بڑا حسین ریشمی کا مدار جبہ بھیجا ۔آپ نے قبول فرمایا۔حضرت جعفر بن ابی طالب کو یہ کہہ کردے دیا کہ وہ اس کو اپنے بھائی نجاشی سے پاس بھیجیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو ایک قیمتی کپڑا ہدیہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا۔ایلہ کے بادشاہ نے آپ کو کپڑے اور سواری بھیجی جو استعمال کئے گئے ۔ڈاکٹر حافظ محمد ثانی اپنی کتاب ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور رواداری “میں رقم طراز ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ سینا کے متصل سینت کیتھرائن کے راہبوں اور عیسائیوں کو پوری آزادی اور وسیع حقوق عطا کیے اور ان کے تعلق سے مسلمانوں کو مذکورہ احکامات پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا:”(1)عیسائی گرجوں ،راہبوں کے مکانات اور ان کی زیارت گاہوں کو ان کے دشمنوں سے بچاؤ ،(2) ہر طرح کی تکلیف دہ چیزوں سے ان کی پوری طرح حفاظت کرو،(3)

ان پر بے جاٹیکس مت عائد کرو(4)کسی کو ان کی حدود سے خارج مت کرو،(5)کسی عیسائی کو مذہب چھوڑنے پر مجبور مت کرو،(6)کسی راہب کو ان کی خانقاہ سے مت نکالو(7)کسی زائر کو زیارت سے مت روکو(8) مسلمانوں کے مکانات اور مساجد کی تعمیر کی غرض سے گرجے مت مسمار کرو“۔مشرکینِ مکہ اور کفار قریش نے آپ پر ظلم وزیادتی کے پہاڑ توڑے ،مظالم پر مظالم ڈھائے گئے مگر حرف اف تک زبان پر جاری نہ ہوا۔چنانچہ غزوہ احد میں جب عتبہ ابنِ ابی وقاص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک پتھر پھینکا ،جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور ایک پتھر پیشانی مبارک پر جالگا۔شکستہ دندانِ مبارک کا کرب اور زخمی پیشانی پر رستے ہوئے پاک لہوسمیت جب بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوئے تو توقع کے عین مطابق نہ ہی اس جابروجارح قوم کے حق میں بدّ عا کی اور نہ ہی شکایت کا لہجہ اختیار کیا،بلکہ برعکس ان دشمنوں کی ہدایت وبخشش کیلئے دعا کی ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نوع انسانیت کے ساتھ مساوات ،عدل وانصاف ،حسن اخلاقی کا معاملہ فرماتے تھے ۔اور مسلم غیر مسلم سبھی کی خوشی ،غم شریک ہوتے تھے ۔اگر معاشرے یا سماج میں کوئی شخص بیمار پڑتا تو اس کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے اور اس کے لیے مناسب دعا فرمایا کرتے تھے ۔”رسول کریم کا ایک خادم یہودی تھا بیمار ہو گیا۔رسول کریم اس کی عیادت کے لئے شریف لے گئے“۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے وہیں غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمدردی ،غم گساری کا رویہ اپناتے تھے ۔آپ ہمیشہ قوم کی باہم اتفاق وراداری کی طرف رہنمائی فرماتے تھے۔

(Visited 21 times, 1 visits today)