بریکنگ نیوز: فوادچودھری کو ہنگامی طور پرعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ۔۔۔ نیا وزیراطلاعات کون ہوگا ؟ بالآخربڑا نام سامنے آگیا

" >

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آج کی بڑی سیاسی خبر یہ ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ، اور ان کی جگہ بابر اعوان کو وزیر اطلاعات بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، خبر کے بعد پورے ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے ،

ذرائع کے مطابق فواد چودھری کو وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور ان کی جگہ ذرائع بابر اعوان کو مشیر اطلاعات بنائے جانے کا امکان ہے، دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اب انھیں کسی اور وزارت کی ذمہ داریاں دی جائیں گی، ذرائع کے مطابق بابر اعوان کو مشیر اطلاعات بنائے جانے کا امکان ہے تاہم ان کی تعیناتی نندی پور کیس سے کلیئرنس سے مشروط ہے، اس سے قبل یہ بھی خبر تھی کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہندوؤں کے بارے میں تضحیک آمیز بیان دینے کی پاداش میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان کے ہندو برادری کے بارے میں ہتک آمیز بیان کی وجہ سے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، تحریک انصاف نے کہا ہے کسی عقیدے کو برا بھلا کہنا کسی بیانیے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان کی بنیاد ہی رواداری کے اصول پر ڈالی گئی تھی، فیاض الحسن چوہان نے ایک تقریب میں ہندوؤں کے بارے میں انتہائی نازیبا ریمارکس دیئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا، پاکستان کے شہریوں میں چالیس لاکھ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے ایک بیان میں چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے فیاض الحسن چوہان کے

‘افسوسناک’ ریماکس پر معافی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ فیاض الحسن چوہان نے وزیر اعلی سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، فیاض الحسن چوہان ماضی میں بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں، فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معذرت کی ہے لیکن ان کی اس وضاحت کو نہیں مانا گیا اور انہیں ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان ہندوؤں کو نہیں بلکہ نریندر مودی، انڈین افواج اور انڈین میڈیا کو مخاطب کیا تھا، خیال رہے کہ بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی کارروائی کے بعد پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ انڈیا کے اس عمل پر تنقید کرنے یا ردعمل دینے والے ہندو برادری کو کیوں اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، ہندو سماجی کارکن کپیل دیو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہمیں پاکستان سے اپنی محبت اور حب الوطنی دکھانے کے جواب میں پی ٹی آئی کے وزیر فیاض چوہان سے یہ ملا کہ وہ یہ سوچے بغیر کہ یہاں 40 لاکھ ہندو رہتے ہیں، ہندوؤں کے لیے `گائے کا پیشاب` پینے والے جیسے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی میں ہندو رکنِ پارلیمان ہیں، تحریکِ انصاف سے ہی تعلق رکھنے والی وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اس جانب توجہ دلائے جانے پر ٹوئٹر پر اپنے مذمتی پیغام میں کہا کہ کسی فرد کو بھی کسی کے مذہب کو ہدف تنقید بنانے کا حق حاصل نہیں، ہمارے ہندو شہریوں نے اپنے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

(Visited 64 times, 1 visits today)