موبائل فون کی اسکرین کی روشنی (برائٹنیس ) زیادہ کرکے استعمال کرنے کا خوفناک نقصان سامنے آ گیا

" >

تائپی(ویب ڈیسک) ماہرین موبائل فونز سے نکلنے والی روشنی کو پہلے ہی آنکھوں کے لیے خطرناک قرار دے چکے ہیں اور اب اس روشنی کا شکار ہو کر ایک لڑکی کا ایسا حشر ہونے کی خبر آ گئی ہے کہ لوگ موبائل فون کے استعمال سے ہی خائف ہو جائیں۔
تفصیلات کے مطابق ماہرین موبائل فونز سے نکلنے والی روشنی کو پہلے ہی آنکھوں کے لیے خطرناک قرار دے چکے ہیں اور اب اس روشنی کا شکار ہو کر ایک لڑکی کا ایسا حشر ہونے کی خبر آ گئی ہے کہ لوگ موبائل فون کے استعمال سے ہی خائف ہو جائیں۔ دی مرر کے مطابق تائیوان کی 25سالہ شین نامی لڑکی اپنے فون کی سکرین برائٹنس مکمل رکھ کر اسے دو سال تک استعمال کرتی رہی جس سے اس کی ایک آنکھ میں 500سوراخ ہو گئے۔گزشتہ دنوں ین کی آنکھوں میں شدید تکلیف رہنے لگی اور ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہونے لگی، جس پر وہ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔ ڈاکٹر نے اس کی آنکھ کے ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ بری خبر سنائی کہ اس کی بینائی اب کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی آنکھ کے کورینا میں 500کے قریب باریک سوراخ ہو چکے ہیں جن کا علاج ناممکن ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ افراد بر وقت تشخیص نہ ہونے کے باعث نابینا پن کی جانب بڑھ رہے ہیں جن کی تعداد 2020 تک 36 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔صرف پاکستان میں 66 فیصد افراد موتیا، 6 فیصد کالے پانی اور 12 فیصد بینائی کی کمزوری کا شکار ہیں۔
یہ بیماریاں بتدریج نابینا پن کی طرف لے جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل اشیا جیسے کمپیوٹر اور موبائل فون ہمیں ڈیجیٹل بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔موبائل کی نیلی اسکرین خاص طور پر آنکھوں کی مختلف بیماریوں جیسے نظر کی دھندلاہٹ، آنکھوں کا خشک ہونا، گردن اور کمر میں درد اور سر درد کا سبب بنتی ہیں۔ان اسکرینوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا نہ صرف آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ دماغی کارکردگی کو بھی بتدریج کم کردیتا ہے جبکہ یہ آپ کی نیند پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ آپ رات میں ایک پرسکون نیند سونے سے محروم ہوجاتے ہیں اور سونے کے دوران بار بار آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ آنکھوں کو توانا رکھنے کے لیے اپنی پلکوں کو بار بار جھپکائیں۔ بعض افراد کام میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ انہیں پلکیں جھپکانا یاد نہیں رہتا۔ پلکیں نہ جھپکانے کی عادت سے آہستہ آہستہ آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں۔وہ چشمے استعمال کریں جن میں ایسے عدسے لگے ہوں جو الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روک کر انہیں واپس بھیج دیں اور آنکھوں کی طرف نہ جانے دیں۔ اس طرح کے چشمے بازار میں عام دستیاب ہیں۔بینائی کی بہتری کے لیے مختلف سمتوں میں دیکھنا بہترین ورزش ہے۔
سب سے پہلے اوپر اور نیچے کی جانب آنکھ کی پتلی کو گھمائیں۔ اوپر اور نیچے کی جانب 5 بار دیکھیں اور یہ عمل 3 بار دہرائیں۔اس کے بعد آنکھوں کی پتلیوں کو دائیں اور بائیں جانب حرکت دیں اور اس میں بھی 5 بار دائیں اور 5 بار بائیں دیکھیں اور یہ عمل بھی 3 بار دہرائیں۔ایک اور ورزش میں آپ آنکھوں کو ترچھا کر سکتے ہیں اور دائیں اور اوپر کے جانب دیکھنے کی بجائے درمیان میں دیکھیں اور پھر آنکھ کی پتلی کو نیچے بائیں جانب لائیں۔ اسے بھی اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق دہرائیں۔آنکھوں کا مساج بھی بہترین ورزش ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہتھیلیوں کی مدد سے مساج کر کے پرسکون بنانے کے ساتھ نظر کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے آنکھوں اور اردگرد خون کی گردش بہتر ہوگی۔رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھ کر آنکھوں کی اندر کی جانب والے کناروں کا مساج ضرور کریں۔ ان جگہوں کو ایک سے دو منٹ تک دبائیں۔ایک تولیے کو گرم پانی اور دوسرے کو ٹھنڈے پانی میں بھگوئیں۔ گرم تولیے کو چہرے پر اس طرح رکھیں کہ آنکھیں بھی ہلکا سا کور ہوجائیں۔ 2 سے 3 منٹ بعد گرم تولیے کو ہٹائیں اور ٹھنڈے تولیے کو 3 منٹ تک رکھیں۔تولیے کو گرم پانی میں بھگو کر آنکھوں، ماتھے، گالوں اور چہرے پر لگائیں اور آنکھیں بند کر کے ماتھے اور آنکھوں کا مساج کریں۔
[wpna_ad placement_id=”964352193767265_964352353767249″]

(Visited 14 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں