حکومت کو بڑے بحران کا سامنا ۔۔۔ وزیراعظم اپنی کابینہ میں آئندہ کیا تبدیلی کرنے والے ہیں؟ جیل سے رہا ہوتے ہی شاہد مسعود نے ٹھوس دلیل دے کر پیشگوئی کر دی

" >

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں عمران خان کے سامنے بڑے بحران ہیں، احتساب اورگرفتاریوں پر اپوزیشن ہی نہیں حکومتی اراکین میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے، عمران خان اپنی کابینہ میں کچھ ردوبدل کرسکتے ہیں،عمران خان مفاہمتی وزراء کو دوٹوک بتا چکے
کہ ن یا پی پی سے مفاہمت نہیں ہوسکتی،جس نے کابینہ چھوڑنی ہے چھوڑ دے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج جس طرح کا نظر آرہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عمرا ن خان کیلئے بہت سارے بحران کھڑے ہورہے ہیں۔کیونکہ بدمعاشیہ کا نظام چل نہیں پارہا۔ آنے والے دنوں میں احتساب اورگرفتاریاں، جس پر اپوزیشن ہی نہیں حکومتی اراکین میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے۔ آنے والے دنوں میں نظام مزید تناؤ کا شکار ہونے والا ہے۔عمران خان اپنی کابینہ میں کچھ ردوبدل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کا پہلے جو اجلاس ہوا ہے۔ اس میں وہ اراکین جوکہہ رہے تھے کہ
پیپلزپارٹی یا ن لیگ سے بات چیت کی جائے،تاکہ اس کے نتیجے میں مفاہمت ہو، اور پارلیمنٹ کا ماحول بہتر بنایا جاسکے ۔عمران خان نے دوٹوک کہا کہ جس نے جانا ہے چلاجائے، کابینہ چھوڑ دے، لیکن میں کسی صورت بات چیت نہیں کروں گا۔ کیونکہ پہلے بھی کہا گیا تھا کہ آپ مفاہمت کا راستہ کھولیں تاکہ پارلیمنٹ چلے اسی مفاہمت کے تحت شہبازشریف آگئے۔ان کے پی اے سی کے چیئرمین بننے سے پارلیمنٹ کا ماحول اور خراب ہوگیا،اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس چلانے کیلئے دفاعی پوزیشن میں ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے نیب ہے۔نیب آئے روز وضاحت پیش کررہا ہوتا ہے، کہ نیب سب کے ساتھ یکساں سلوک کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اب احتساب کے عمل میں کہاں کھڑی ہے ۔ زرداری صاحب نے نظرثانی اپیل دائر کردی ہے۔ اگر سندھ میں گرفتار یاں ہوتی ہیں توسندھ حکومت کہے گی کہ ہم سے وسائل چھینے جا رہے ہیں۔زرداری صاحب بھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا اٹھارویں ترمیم میں تبدلی اور وسائل کا چکر ہے۔ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ صوبوں بالخصوص سندھ کوکم پیسا دیں،وفاق بھی یہی کہتا ہے کہ صوبوں کو کم پیسا دیا جائے تاکہ وفاق کے پاس کچھ پیسا توبچ جائے۔
[wpna_ad placement_id=”964352193767265_964352353767249″]

(Visited 1 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں