ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم سے ملنے کیلئے بے تاب ۔۔۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کب اور کہاں ہوگی ؟ نا قابل یقین بریکنگ نیوز آگئی

" >

واشنگٹن (ویب ڈیسک) کئی روز سے کہا جا رہا ہے کہ امریکی سدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات متوقع ہت ، جس میں اب بڑی پیشرفت ہوئی ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی قیادت کے ساتھ رواں سال کے وسط میں ملاقات کے لیے دونوں ممالک کے سفارتکاروں کے درمیان بیک ڈور بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
نجی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ حال میں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینٹرز اور اعلی حکومتی وفود کے درمیان ملاقاتوں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم کی ون آن ون ملاقات ایجنڈے پر سرفہرست رہی ہے .وزیراعظم پاکستان عمران خان کو امریکی صدر کے پغامات بھی پہنچائے گئے ہیں جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کے ساتھ جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے تاہم پاکستان نے ابھی تک امریکی صدر سے ملاقات کو ترجیحی لسٹ میں شامل نہیں کیا. صدر ٹرمپ سے قریب سمجھے جانے والے امریکی سینیٹر لنڈزی گریم نے اپنے دورے کے دوران کھل کر اظہار کیا تھا کہ عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ضروری ہے کیوں کہ دونوں ایک جیسی شخصیات کے مالک ہیں اس لیے ان دونوں میں خوب نبھے گی‘ انہوں کے ان الفاظ کو اعلی سفارتی حلقوں میں بڑی اہمیت دی گئی کہ”عمران خان کی وجہ سے ہمیں منفرد موقع ملا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو لین دین کے تعلقات سے بدل کر سٹریٹیجک تعلقات میں بدل دیا جائے“ سینیٹر گریم کی جانب سے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی بات بھی سامنے آئی تھی، اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے ،
رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ امریکا روس‘چین اور پاکستان کے اتحاد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تینوں ملکوں کے قریبی تعلقات اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ ‘ایران جوکہ روس کے قریب رہا ہے اس کے اتحاد میں شمولیت کے امکانات اور سب سے بڑھ کر ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کے خاتمے کے لیے روس کی بیک ڈور ڈپلومیسی تاکہ خطے کو کسی بھی ممکنہ جنگ سے بچایا جاسکے جیسے معاملات کو امریکی بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں.ٹرمپ کی قیادت میں امریکی پالیسیاں بھی بدل رہی ہیں اور امریکا کو معاشی دباؤ سے نکالنے کے لیے جنگوں کی بجائے صنعت وتجارت کو فروغ دینے کے خواہش مند ہیں ‘صدر ٹرمپ کے قریبی ذرائع کہتے آرہے ہیں کہ وہ ”میک امریکا گریٹ اگین“کے نعرے کو اپنے دور صدارت کے خاتمے سے پہلے عملی شکل دینا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بعض معاملات میں امریکی آئین میں دیئے گئے اپنے اختیارات کو کھل کر استعمال کیا سفری پابندیاں ہوں یا غیرقانونی تارکین وطن کو اخراج انہوں نے صدارتی حکم ناموں کے ذریعے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کروایا ،

(Visited 1 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں