لندن کے ٹیکسی ڈرائیور محمد اکرم نے کپتان کی جوانی اور جمائما کے حوالے سے ناقابل یقین انکشاف کر دیا

" >

لندن (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے پرانے دوست اور کئی سالوں تک ان کے ٹیکسی ڈرائیور رہنے والے محمد اکرم کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کا دوست اب پاکستان کا وزیراعظم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا کوئی دکھ نہیں ہیں

کہ عمران خان نے انہیں اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو نہیں کیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ محمد اکرم نامی شخص 1986ء میں عمران خان کو برطانیہ میں اس وقت ملے جب بہت کم لوگ عمران خان کے بارے میں جانتے تھے۔عمران خان اور محمد اکرم کے مابین دوستی اتنی گہری ہو گئی کہ عمران خان جب بھی برطانیہ جاتے تو محمد اکرم ان کے ذاتی ٹیکیسی ڈرائیور کے فرائض سر انجام دیتے۔عمران خان جب بھی برطانیہ جاتے تو محمد اکرم کو فون کر کہ کہتے کہ مجھے ائیرپورٹ سے ٹیکسی پر لے جائیں۔اور اکرم ہمیشہ اپنے قریبی دوست اور لیڈر کے لیے موجود ہوتے تھے اور عمران خان کو ائیرپورٹ سے گولڈ اسمتھ ہاؤس لے جاتے۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک عمران خان کو چمکیلی گاڑیوں اور لیموزینز کے مالک زلفی بخاری جیسے دوست نہیں ملے۔ کیونکہ زلفی بخاری اور ان جیسے کئی امیر لوگوں سے دوستی کے بعد عمران خان ٹیکسی کی بجائے لیموزین میں سفر کرتے تھےاور اس طرح زلفی بخاری نے محمد اکرم سے عمران خان کو برطانیہ ائیرپورٹ سے لینے کی ذمہ داری لے لی اور 2012ء کے بعد عمران خان جب بھی لندن رہنے کے لیے جاتے تو زلفی بخاری ہی عمران خان کو پک اور

ڈراپ کیا کرتے تھے۔عمران خان خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں لندن، مشرق وسطی، یورپ اور دیگر ملکوں سے درجنوں امیر دوستوں کو مدعو کیا لیکن حیران کن طور پر یہ وہ تمام لوگ تھے جس نے عمران خان کی دوستی پچھلے کچھ سالوں میں ہوئی تھی۔بہت لوگوں نے امید ظاہر کی تھی کہ عمران خان کے سب سے پرانے دوست محمد اکرم کو بھی مدعو کیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوا۔لیکن محمد اکرم کا کہنا ہے کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میرا دوست وہاں پہنچ گیا جہاں ہم چاہتے تھے۔انہوں نے کہا مجھے مدعو نہیں کیا گیا لیکن ٹھیک ہے میں فوٹو سیشن کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا میں عمران خان کو ٹی وی پر عہدے کا حلف اٹھاتے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔عمران خان اب ہزار کاموں میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کے ارد گرد مشیروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اس لیے مجھے کبھی بھی عمران خان سے کوئی گلہ نہیں ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب عمران خان اور جمائما ایک دوسرے سے عشق میں مبتلا ہوئے تو عمران خان نے مجھے کچھ اسلامی کتابیں جمائما کو دینے کے لیے کہا میں نے 5 اسلامی کتابیں جمائما کے گھر پر دیں جس کے کچھ روز بعد ہی جمائما خان نے اسلام قبول کر لیا۔

(Visited 289 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں