خاتون ڈی پی او کے سر پر ہاتھ رکھنے کا معاملہ، چیف جسٹس ثاقب نثار سے مطالبہ کر دیا گیا

" >

پاکپتن (ویب ڈیسک) گزشتہ روز ایک خبر سامنے آئی تھی کہ پاکپتن میں خاتون ڈی پی او کے سر پر دست شفقت رکھنا بزرگ شہری کا جُرم بن گیا۔ 85 سالہ رہنما صوفی محمد رشید نے ماریہ محمود کے سر پر دست شفقت رکھنا چاہا تو ان کا یہ تاثر ڈی پی او ماریہ محمود
کو ناگوار گزرا۔ ماریہ محمود نے تاجر رہنما کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف تمہاری عمر کا لحاظ کیا ہے۔ جس کے بعد بزرگ رہنما کو حراست میں لے لیا گیا تھا تاہم اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے معمر شہری کو لاک اپ کرنے کے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس متعلق آر پی او ساہیوال سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک شہری نے پاکپتن میں 80 سالہ بزرگ کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ بزرگ شہری کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔قانون کے مطابق بزرگ شہری کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔دوسری جانب پولیس نے برزگ شہری صوفی محمد رشید کے خلاف جو مقدمہ درج کیا اُس میں ڈی پی او کی کھُلی کچہری، خاتون ڈی پی او کی بزرگ تاجر رہنما سے تلخ کلامی اور موقع سے ہی بزرگ صوفی محمد رشید کی گرفتاری کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا۔مقدمے کے مطابق ایس ایچ او نے موقف اختیار کیا کہ جب وہ غلہ منڈی میں ٹریفک کھُلوانے گیا تو بزرگ شہری صوفی محمد رشید نے غنڈے بلا لیے جنہوں نے ہاتھا پائی کی ، فون چھین لیا اور پولیس اہلکار کی وردی کے بٹن ٹوٹ گئے۔ پولیس کا موقف مسترد کرتے ہوئے صوفی محمد رشید نے کہا کہ میں نے خاتون ڈی پی او کے سر پر ہاتھ کر رکھ کر پیار دینے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔اور مجھے کہا کہ میں بزرگ ہونے کی وجہ سے آپ کا لحاظ کرتی ہوں۔جس کے بعد میرے اوپر ایک بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی اور مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ تھانہ سٹی عارف والا کے ایس ایچ او محمد عمران نے اس حوالے سے موقف دینے سے ہی انکار کر دیا۔ تاجر برادری نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ تاجر رہنما کی رہائی کافی نہیں ،پولیس ان کے خلاف دائر کیا جانے والا بے بنیاد اور جھوٹا مقدمہ بھی خارج کرے بصورت دیگر شہر بھر میں احتجاج اور ہڑتال کی جائے گی۔
[wpna_ad placement_id=”964352193767265_964352353767249″]

(Visited 1 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں