یااللہ تیرا شکر ہے: پاکستان کی تو لاٹری نکل آئی ، وزیراعظم کو ایسی خبر سنا دی گئی کہ جان کر وہ ہی نہیں سارے پاکستانی بھی سجدے میں جھک جائیں گے

" >

اسلام آباد(نیو زڈیسک)پاکستان کی تو لاٹری نکل آئی ، وزیراعظم کو ایسی خبر سنا دی گئی کہ جان کر وہ ہی نہیں سارے پاکستانی بھی سجدے میں جھک جائیں گے ۔۔ دنیا کا سب سے بڑا سونے چاندی کا ذخیرہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک میں پایا جاتا ہے سونے اور چاندی کے پہاڑوں میں ایک کروڑ 23لاکھ ٹن تانبا اور دو کروڑ نو لاکھ سونے کے ذخائر موجود ہیں ریکوڈک میں 58فیصد تانبا او 28فیصد سونے کے ذخائرکاتخمینہ

کل مالیت 65ارب ڈالر لگایا گیا۔طویل عرصے زیر التواءکیس کی پیروی کیلئے بلوچستان حکومت نے وکلاءکو ساڑے تین ارب روپے ادا کئے گئے نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دنیا کا دوسرا بڑا سونے اور چاندی کا ذخیرہ بلوچستان کاضلع چاغی میں ریکوڈیک میں پایا جاتا ہے سونے اور چاندی کے پہاڑوں میں ریکوڈک میں582فیصد تانبے اور 28فیصد سونے کے ذخائر کی کل مالیت کا اندازہ 65ارب ڈالر لگایا گیا ہے 1993میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی دیا گیا بلوچستان حکومت نے ڈریلنگ کیلئے دیئے گئے منصوبے کو BHPکی بے قائدگیوں پر منسوخ کردیا پھر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کینیڈا اور چلی کے کمپنی ٹیتیان کاپر کمپنی ریکوڈک کا ٹھیکہ دیا گیا ٹیتیان کمپنی مائنگ لائسنس کے ساتھ ہی منصوبے کے 75فیصد کی مالک بھی بنی کمپنی نے سونے اور تانبے کو پاؤڈر بنا کر پائپ لائن کے ذریعے گوادر لا کر بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا منصوبے کے امدنی کا صرف 25فیصد بلوچستان حکومت کو ملنا تھا ۔پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں ٹی ٹی سی کو لائسنس دینے کے لئے چاغی میں ریفائنری لگانے کی شرط عائد کی وفاقی حکومت کے دباؤ کے باوجود وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کمپنی کو لائسنس دینے سے انکار کر دیا سن 2010ءمیں ریکوڈک منصوبہ پر بلوچستان حکومت خود کرنے کا فیصلہ کیا سن 2013ءمیں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی کمپنی کے معاہدے کو کالعدم کر دیا معاہدے کالعدم ہونے کے بعد آسٹریلوی کمپنی نے اپنے حصص ٹی سی سی کو فروخت کر دیا ٹی سی سی نے عالمی ثالثی ٹربیونل میں لائسنس کی مد میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعویٰ کر دیا طویل عرصہ سے زیر التواءکیس کی پیروی کے لئے بلوچستان حکومت نے وکلاءکو ساڑھے تین ارب ادا کیا کیس ہارنے کے بعد غیرملکی کمپنی نے بلوچستان حکومت پر 12 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس رقم موجود نہ ہونے کے سبب معاملہ عدالت کے باہر نمٹانے کی کوشش جاری ہے وفاقی حکومت نے ریکوڈک کے غیرمتنازعہ حصہ پر سرمایہ کاری کے لئے سعودی عرب کو پیشکش کی یہ پچھلے ادوار کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

(Visited 83 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں