محب وطن ہونے کا حق ادا۔۔۔۔ زلفی بخاری نے ایسا اعلان کر دیا کہ کپتان بھی اپنے انتخاب پر فخر محسوس کریں گے

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بڑا انکشاف کر دیا ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری چیف جسٹس کے کہنے پر برطانوی شہریت چھوڑنے کو تیار ہیں۔فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ میری زلفی بخاری کے ساتھ گورنر ہاؤس میں کافی کے کپ پر ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اگر مجھے دوہری شہریت چھوڑنے کا کہیں گے تو میں برطانیہ کی شہریت چھوڑ دوں گا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ زلفی بخاری پر صرف اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ وہ عمران خان کے قریب ہیں اور نوجوان ہیں۔انہوں نے کہا کیہ زلفی بخاری کامیاب نوجوان ہیں اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ہم چیف جسٹس کی دل سے عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں۔واضح رہے بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے پیش ہوکرموقف اپنایاکہ ہم نے جواب جمع کرادیا ہے،ان کا موکل وزیر اعظم کا معاون خصوصی ہے، پارلیمنٹرین وزیر یا مشیر نہیں،اس لئے ان پر د وہری شہریت کی ممانعت کا اطلاق نہیں ہوتا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اقربا پروری ہوئی ہے، توہم کہیں گے کیونکہ ہمار ا کام اس ملک کے ایڈمنسٹریشن کو ٹھیک کرنا ہے اگر تقرری غلط ہوئی ہے تو ہم اس کا جائزہ لیں گے اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں لیکن کسی نے ان کو بتایا نہیں کہ یہ مقدمہ کو وارنٹو کا ہے۔عدالت کے استفسار پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے موکل لندن سے گریجویشن کرکے آئے ہیں اور تارکین وطن کے معاملات میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ لندن میں پیدا ہوئے اور خاندانی کاروبار سے منسلک رہے، انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بہت کام کیا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیںزلفی بخاری کی کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں، عدالتصرف اہلیت اور دوہری شہریت کے معاملے کا جائزہ لے گی بعدازاں عدالت نے مزیدسماعت 26دسمبر تک ملتو ی کردی۔

(Visited 101 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں