ایک گہری خاموشی نے باپ بیٹی کو کیوں جکڑ رکھا ہے ، صحافی چیختے رہ جاتے ہیں میاں صاحب زبان کھولو مگر۔۔۔آخر ماجرا کیا ہے ؟ رؤف کلاسرا نے انکشاف کر دیا

" >

لاہور (ویب ڈیسک) نواز شریف کا تیسرا دورِ حکومت ججوں سے براہ راست لڑائی کا تھا ۔ اگرچہ دور بدل گیا تھا ‘ لہٰذا صحافیوں اور میڈیا مالکان کے ساتھ وہ حشر نہ کرسکے جو دوسرے دورِ حکومت میں مالکان اور ایڈیٹرز پر بغاوت کے مقدمے اور اخبارات بند کرا کے کیا تھا ۔

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس دفعہ نواز شریف نے وہی پرانا دائو آزمایا کہ میڈیا کو اگر دبا نہیں سکتے تو خرید لو۔ یوں چودہ ارب روپے کے اشتہارات بانٹے گئے۔ جو مخالفت میں کھڑے تھے ان کے اشتہارات روکے گئے۔ مطلب وہی تھا کہ اگر ہماری بولی بولو گے تو موج کرو گے ورنہ بھوکے مرو گے۔تب پیمرا کے ذریعے بھی میڈیا اور صحافیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی وی پر بھرتیاں کر کے اینکرز اور صحافیوں کو گالی گلوچ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ایک دن وہ بیٹی سمیت جیل جا بیٹھے اور اب ایسی خاموشی نے انہیں جکڑ لیا ہے کہ صحافی چیختے چلاتے رہ جاتے ہیں کہ میاں صاحب کچھ تو بولیں۔ وہ عدالتیں جہاں ان کی مرضی سے بغاوتیں کرائی جاتی تھیں‘ وہی اب انہیں بلا کر کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں اور میاں صاحب بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں۔ اب باری لگی ہے وزیراعظم عمران خان کی جنہوں نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار پر اعتراض جڑ دیے۔ مجھے تو عمران خان کی ناراضی پر حیرانی نہیں ہوئی ۔

عمران خان کا کہنا تھا: انہیں چیف جسٹس کے اس جملے پر اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنے دوست زلفی بخاری کو وزیر کا عہدہ دے کر اقربا پروری کی تھی ۔اب مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان کے نزدیک اقربا پروری کی کیا تعریف ہے۔ مجھے یاد ہے‘ جب یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف نے بہت سی اہم تقرریاں کیں اور اپنے قریبی دوستوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا تو اس وقت میڈیا اور عمران خان سب سے بڑے ناقد تھے ۔ دوستوں کے وفاق میں عہدوں کے علاوہ پنجاب میں‘ بنی گالہ میں اپنے گھر کے ملازم تک کو صوبائی مشیر کا درجہ دلوا کر معصومیت سے پوچھتے ہیں :میں نے کب اقربا پروری کی ہے؟ تو کیا یہ طے ہے کہ ہمارے اصول بڑے سمجھدار ہوتے ہیں ؟ ہم اپنے لیے معیار طے کرتے ہیں تو وہ کچھ اور ہوتا ہے‘ لیکن کسی اور کو جج کرنا ہو تو وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اپنے لیے سب رعائتیں اور دوسروں کے لیے سخت ترین معیار ۔ جو باتیں عمران خان دوسروں کے لیے غلط سمجھتے تھے‘ اب اپنے لیے درست سمجھنا شروع ہوگئے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ہر حکمران کیوں میڈیا اور عدالتوں سے ناراض ہو کران سے لڑائی شروع کرتا ہے؟

دنیا بھر میں جمہوریت کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ اسے سیاستدان مضبوط کرتے ہیں۔ جمہوریت کو اگر مضبوط کرتے ہیں تو آزاد عدالتیں اور آزاد میڈیا۔ حکمران اس وقت میڈیا اور ججوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں جب وہ لوگوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہتے ہیں‘ اور پھر وزیراعظم اپنی ہر ناکامی اور بری کارکردگی کا ذمہ دار میڈیاا ور ججوں کو سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ وزیراعظم کے حواری سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ دراصل جج اور صحافی ان کی حکومت نہیں چلنے دے رہے۔ جس نتیجے پر پہنچنے میں بینظیر بھٹو‘ جنرل مشرف‘ زرداری اور نواز شریف کو برسوں لگے ‘ عمران خان تین ماہ میں پہنچ گئے ہیں کہ میڈیا اور عدالتیں انہیں نہیں چلنے دے رہیں۔ جن عدالتوں اور میڈیا کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ وزیراعظم بنے ہیں‘ وہی اب انہیں برا لگنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہی عدالتیں تھیں جنہوں نے نواز شریف کو گھر بھیجا اور عمران خان کی پٹیشن پر بھیجا اور عمران خان کا راستہ ہموار ہوا ۔ اسی میڈیا نے دو برس تک مسلسل پانامہ سکینڈل کو زندہ رکھا‘ جس کا فائدہ عمران خان کو ہوا ۔ آج عمران خان انہی ججوں اور صحافیوں سے ناراض ہیں۔ مجھے تو عمران خان کی ناراضگی پر حیرانی نہیں ہوئی!

(Visited 66 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں