عدالتی فیصلہ آںے تک کام جاری رکھو لیکن۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان کے انکار کے باوجود استعفیٰ کیوں دیا؟ اعظم سواتی نے حیران کن وجہ بتا دی

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفیٰ پیش کیا جسے وزیراعظم نے قبول کر لیا۔

ذرائع کے مطابق استعفے میں اعظم سواتی نے موجودہ حالات میں کارم جاری رکھنے سے معذرت کی۔اعظم سواتی نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کیا جو انہوں نے قبول کیا۔اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اپنے خلاف کیس کا بغیر عہدے کے سامنے کروں گا۔وزیراعظم کو بتا دیا عہدہ معنی نہیں رکھتا، انہوں نے عدالتی فیصلے آنے تک کام جاری رکھنے کو کہا لیکن میں نے ان کو منا لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی اتھارٹی کے کیس میں پیش ہو کر دفاع کروں گا۔واضح رہے وزیراعظم عمران خان بھی اس بات کا اعلان کر چکے تھے کہ الزام ثابت ہونے پر اعظم سواتی خود مستعفیٰ ہو جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان کابینہ میں تبدیلی کا عندیہ دے چکے ہیں،انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ناقص کارگردگی دکھانے والے وزراء کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ جب کہ اعظم سواتی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے کیس میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔اعظم سواتی کے معاملے پرجے آئی ٹی میں مداخلت نہیں کی۔کسی کو بچانےکیلیے کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ کسی کوتحفظ دینے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔بابراعوان نےخود اپنے عہدے سےاستعفا دیا۔انکا کہنا تھا کہ اگر اعظم سواتی پر الزامات ثابت ہو گئے تو وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔اس حوالے سے انکا مزید کہنا تھا کہ آپ اس کیس کی شفافیت پر کیسے شک کر سکتے ہیں ، آپ خود دیکھ لیں کی اعظم سواتی کے خلاف جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں وہ میرے ماتحت ہوئی اور اگر میں چاہتا تو کیا میں اس میں مداخلت نہیں کر سکتا تھا ، میں بالکل مداخلت کر سکتا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا ۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں