اپنی گندگی سیاست کرو اور۔۔۔وقار یونس نے نجم سیٹھی کو کرارا جواب دے دیا

" >

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس نے سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے کہا ہے کہ آپ کے کرکٹ میں دن ختم ہو گئے ہیں اور اب اپنی گندی سیاست ہی کریں۔تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے ایک انٹرویو میں کرکٹ لابیز، نوکریوں کے معاملے میں پسند ناپسند،

حسد اور کراچی اور لاہور کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں سفارشی ٹولہ آ گیا ہے مگر یہ بات وقار یونس کو پسند نہ آئی جنہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیدیا۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ”سفارشی ٹولہ!!! ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ دیکھو کرپشن پر بات کون کر رہا ہے۔ نجم سیٹھی صاحب آپ بھی کمال کرتے ہو، پی سی بی کے دبنگ! کرکٹ کی دنیا میں آپ کے دن ختم ہو گئے ہیں۔۔۔ اپنی گندی سیاست ہی کرتے رہیں۔“واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد میں نے راشد لطیف سے رابطہ کیا کہ آپ آئیں تاکہ کرپشن کا مقابلہ کریں اور آپ کو چیف سلیکٹر بھی بناتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں! مجھے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بنایا جائے۔اس پر کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاﺅں نے مجھے یہ تجویز دی کہ دانش کنیریا راشد لطیف کے قریب ہیں اور ان کے حوالے سے انہوں نے کمزور بیان دئیے ہیں۔ میں نے راشد لطیف کو تجویز دی کہ آپ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین بن جائیں مگر ہم کرپشن ایشوز پر بھی آپ سے بات چیت کریں گے۔ راشد لطیف نے کہا کہ نہیں مجھے اینٹی کرپشن کا ہیڈ بنائیں گے تو ہی میں آﺅں گا۔ کرکٹ میں لابیز ہیں، نوکریوں کے حوالے سے بھی پسند ناپسند کا معاملہ ہے، حسد بھی ہے اور بدقسمتی سے کراچی اور لاہور کا مسئلہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ محسن حسن خان وسیم اکرم کو گزشتہ آٹھ سال گالیاں دیتے رہے ہیں اور اب وہ وسیم اکرم کیساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، احسان مانی نے ایک ہی دن میں ان کا ذہن صاف کر دیا ہے۔ میں جب نیا نیا چیئرمین بنا تو محسن حسن خان نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے قومی سلیکٹر یا کوچ بنا دیں جس پر لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسا مت کریں کیونکہ یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں، آپ نئے لوگ لے کر آئیں اور اب مجھے لگتا ہے کہ سفارشی ٹولہ کرکٹ کمیٹی میں آ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لوگوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وقار یونس کو مت لے کر آئیں مگر میں لایا تاہم ان کی کارکردگی ویسی نہیں رہی جیسی رہنی چاہئے تھی، بعد میں انہوں نے مجھ پر بھی بڑی تنقید کی حالانکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ مجھ سے غلطی کیا ہوئی ہے کیونکہ میں ہی تو انہیں کرکٹ بورڈ میں لایا تھا۔

(Visited 7 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں