امریکہ میں دہشت گردی کی ایک اور خوفناک واردات ؟؟؟ بہت بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات

" >

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بار اور ڈانس کلب میں فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت12 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے جبکہ فائرنگ کرنے والا حملے آور بھی ہلاک ہوگیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ریاست کیلیفورنیا کے شہر تھاؤزینڈ اوکس میں اس وقت پیش آیا،

جب وہاں طلبہ کی پارٹی جاری تھی کہ اس دوران ایک حملہ آور نے بار میں گھس کر فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق باڈرلائن بار اینڈ گرل میں ہونے والی فائرنگ میں پولیس افسر سمیت 12 افراد جبکہ تقریباً 12 افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس کو مشتبہ حملہ آور کی لاش بھی ملی۔وینٹرا کاؤنٹی پولیس کے سربراہ جیوف ڈین نے بار میں فائرنگ کے واقعے کو ’خوفناک‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’حملہ آور کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہوا لیکن یہ ایک خوفناک واقعہ تھا، ہر جگہ خون پھیلا ہوا تھا اور میں جائے وقوع کے زیادہ قریب جا کر تحقیقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ’تفتیش کاروں کو ابتدائی تفتیش کے دوران بار کے اندر کسی بھی قسم کی رائفل نہیں ملی ابھی تک جہاں تک ہماری معلومات ہیں حملے کے وقت ایک ہینڈ گن تھی، تاہم پوری عمارت کی تلاشی کے بعد صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حملہ آور کی شناخت نہیں ہوئی اور ایف بی آئی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوتا کہ اس نے حملے کے بعد خود کو گولی مارلی۔ادھر تھاؤزینڈ اوکس کے میئر نے سی این اجن کو بتایا کہ آدھی رات

کو انہیں باڈرلائن بار اینڈ گرل میں فائرنگ کی اطلاع ملی، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ ’تھاؤزینڈ اوکس ملک کا سب سے محفوظ ترین شہر تصور کیا جاتا تھا اور ہمارے یہاں سب سے کم جرائم کی شرح تھی اور ہمیں اس پر فخر تھا‘۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کہیں بھی کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں، یہاں تک ان کمیونٹیز میں جو بہت زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔واضح رہے کہ باڈرلائن بار اینڈ گرل رقص کے لیے مشہور ہے اور یہاں روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے پروگرامات ہوتے ہیں۔شراب خانے کی ویب سائٹ کے مطابق وہاں رات 9 سے 2 بجے تک کالج کنٹری نائٹ کا پروگرام ہورہا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آگیا۔ خیال رہے کہ یہ بار کیلیفورنیا لیوتھرن یونیورسٹی سے کچھ فاصلے پر ہے اور یہ طلبہ کے لیے مشہور مقام ہے۔فائرنگ کے واقعے کے بعد پیپرڈائن یونیورسٹی نے ٹوئٹ کیا کہ باڈرلائن بار اینڈ گرل میں ان کے متعدد طلبہ موجود تھے اور یونیورسٹی ان طلبہ کی شناخت اور مدد فراہم کررہی ہے۔یونیورسٹی نے کہا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور جیسے ہی مزید معلومات ملے گی وہ فراہم کردی جائے گی۔


اپنے ٹوئٹ میں یونیورسٹی نے کہا کہ وہ واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور متاثرہ افراد کے لیے دعا گو ہیں۔دوسری جانب اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ پولیس کے مطابق حملہ آور بار کے اندر مردہ پایا گیا جبکہ انتظامیہ ملزم کی شناخت اور حملے کے مقاصد کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وینٹورا کاؤنٹی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں ڈپٹی پولیس افسر بھی شامل ہے جو جائے وقوع پر سب سے پہلے پہنچا تھا اور اس نے فائرنگ بھی کی تھی۔پولیس کے مطابق حملہ آور نے نیم خود کار ہتھیار کا استعمال کیا جبکہ واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران حملہ آور دھواں پھیلانے والے گرینیڈ کا بھی استعمال کرتا رہا۔عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے حملہ آور کو کیش رجسٹرڈ کاؤنٹر کے پیچھے دیکھا اور وہ مسلسل فائرنگ کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’حملہ آور نے 3 یا 4 فائر کیے تھے کہ میں زمین پر لیٹ گیا اور جب میں اٹھا تو دیکھا کہ ایک سیکیورٹی گارڈ مر چکا تھا‘۔

(Visited 286 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں